پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ عمران نیازی ملک کیلئے سیکورٹی رسک بن چکا ہے اور کرسی تک پہنچانے والوں نے دھکا نہ دیا تو وہ خود بہت پچھتائیں گے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوشہرہ میں باچا خان اور ولی خان کی برسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے باچا خان اور ولی خان کی زندگی اور جدوجہد پر روشنی ڈالی اور جدوجہد آزادی کیلئے تاریخی قربانیوں پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم باچا خان بابا کے سپاہی اور اپنے نظریات پر ہمیشہ سے قائم ہیں کیونکہ اپنے نظرئیے اور اپنی جماعت کے ساتھ مخلص ہونا ہی بڑی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو اپنے نظریات اور پارٹی کے ساتھ مخلص ہو قابل احترام ہیں لہٰذا ہمیں فکری، شعوری اور نظریاتی لوگوں کی قدر کرنی چاہئے۔ باچا خان اور ولی خان کے نظریات کسی سے پوشیدہ نہیں اور ہمیں ان کا سپاہی ہونے اور اپنی پارٹی پر فخر ہے،انہوں نے کہا کہ باچا خان بابا کے فلسفے میں تعلیم کا فروغ اولیں ترجیح تھا اور اس کے ساتھ ساتھ ایک اہم نکتہ امن و محبت کا پرچار اور دشمنیوں کا خاتمہ تھا ، انہوں نے زندگی بھر پختونوں کے اتحاد و اتفاق کیلئے کوششیں کیں جبکہ خدائی خدمت گاری کو اپناتے ہوئے ہمیشہ اللہ کی رضا کیلئے مخلوق خدا کی خدمت کو اپنا شعار بنائے رکھا ، انہوں نے کہا کہ باچا خان نے قوم میں شعور اجاگر کرنے کیلئے قلم کا سہارا لیا ، اسی طرح جو اقتصادی نظام باچا خان نے دیا اس میں سماجی انصاف بنیادی نکتہ تھا تاکہ سب کو برابری کی بنیاد پر حق مل سکے۔میاں افتخار حسین نے ملک کی ابتر صورٹال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ساہیوال کے دلخراش واقعے نے پوری قوم کو افسردہ کر دیا ہے جبکہ خیسور شریف وزیرستان میں عزتوں کی پامالی کے سانحے سے پختونوں کی غیرت کو للکارا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ ریاست کمزور ہو چکی ہے اور موجودہ واقعات حکومتوں اور ریاستی اداروں کی نا اہلی ثابت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ گزشتہ کافی عرصہ سے نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور چار سو سے زائد بے گناہوں کو قتل کرنے والا درندہ راؤ انوار آج بھی سر عام گھوم رہا ہے، انہوں نے کہا کہ ساہیوال ،نقیب اللہ محسود اور طاہر داوڑ جیسے واقعات سمیت خیسور کے ملزموں کو سڑکوں پر سرعام پھانسیاں دی جائیں تو شاید عوام کو یقین ہو سکے کہ اس ملک میں بھی انصاف مل سکتا ہے،بنوں میں بکا خیل کیمپ کے دورے کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ ہم متاثرین سے ملاقات کیلئے گئے البتہ متاثرین سے قانونی مسائل کے باعث ملاقات ممکن نہ ہو سکی ، میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ پی ٹی آئی آج اقتدار میں ہے اور اسے اقتدار تک لانے والے خود ایک دن پچھتائیں گے ، انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو دیوار سے لگا کر اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کیلئے نیازی کو حکومت دی گئی لیکن لولی لنغری حکومت اس میں کامیاب نہیں ہو سکتی جس کی وجہ سے آقاؤں اور غلاموں کے درمیان تلخیاں بڑھتی جا رہی ہیں ، انہوں نے کہا کہ عمران خان ملک کی سیاست میں بدقسمت اضافہ ہے اور ہر وہ شخص جسے بات کرنے کی تمیز نہیں وہ پی ٹی آئی کا حصہ ہے،انہوں نے کہا کہ ملک میں احتساب کے نام پر ڈرامہ چل رہا ہے جس میں صرف سیاسی مخالفین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ نیب زدہ پی ٹی آئی والے اور باجی علیمہ احتساب سے مستثنیٰ ہیں ، میاں افتخار نے کہا کہ شفاف اور بلا امتیاز احتساب تب ہی ممکن ہے جب اس کا آغاز تحریک انصاف ، وزیر اعظم اور ان کے اہل خانہ سے کیا جائے،افغانستان کے حوالے سے انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ امن مذاکرات میں افغان حکومت کو شامل کیا جائے ورنہ اصل فریق کے بغیر امن مذاکرات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔