پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ رخصتی سے قبل چیف جسٹس کے اٹھارویں ترمیم بارے ریمارکس نے پورے پاکستان کو رنجیدہ کر دیا ہے، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ در حقیقت اسٹیبلشمنٹ نے مل کر قوم کے خلاف سازش کی اور اٹھارویں ترمیم ختم کرنے کیلئے عمران خان کو اقتدار تک پہنچایا گیا ، انہوں نے کہا کہ موجودہ وفاقی حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے جس کی جنات کو توقع نہیں تھی اور جب عمران کے بس میں نہ رہا تو چیف جسٹس کو گھر جانے سے قبل یہ ڈیوٹی سپرد کر دی گئی ہے،انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کی روح کے منافی بیانات سے پورے ملک کے عوام کو صدمہ پہنچا ہے اور اس قسم کے بیانات سے فیڈریشن کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو کمزور کر کے طاقتور بننے کی خوش فہمی میں نہ رہے ، این ایف سی ایوارڈ اور صوبوں کے مالی امور میں مداخلت کی گئی تو ملک بھی کمزور ہو گا،انہوں نے کہا کہ2010میں اٹھارویں ترمیم کی منظوری کیلئے تمام سیاسی جماعتیں متفق تھیں اور کمیٹی میں تمام چھوٹی بڑی جماعتوں کی بھرپور نمائندگی موجود تھی اس لئے اس پر زیادہ بحث کی ضرورت پیش نہیں آئی، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اگر آج پارلیمنٹ کے فیصلوں کو بے توقیر کیا گیا تو پارلیمانی فیصلوں میں مداخلت کی گئی تو مستقبل میں دیگر اداروں کا مستقبل بھی خطرے میں ہو گا اورتمام اداروں کی ایکدوسرے کے معاملات میں مداخلت کی روایت پڑ جائے گی جو ملک کی یکجہتی اور جمہوریت کی بقا کیلئے نیک شگون نہیں ،میاں افتخار نے کہا کہ متذکرہ ترمیم ایک خاموش انقلاب ہے اور اب اس انقلاب کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، ، انہوں نے کہا کہ عوام پر آئینی و قانونی راستے بند کرنے کی روش سے لوگ مجبوراً غیر آئینی و غیر قانونی راہ اختیار کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اپنے ادارے میں زیر التوا کیسوں اور سالہا سال سے سردخانے کی نذر ہونے والے مقدمات پر توجہ مرکوز رکھیں گے تاکہ غریب سائلین کو انصاف مل سکے،انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو اختیارات دیئے گئے ہیں اور صوبائی محکمے صوبوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں جنہیں پہلے کٹھ پتلی وزیر اعظم اور اب چیف جسٹس چھیڑنے کی بات کر رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ نصاب تعلیم میں تبدیلی یا ترمیم کا اختیار صوبوں کے پاس ہے اور عمران خان ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم کا اختیار نہیں رکھتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ کے فنڈز روک کر وفاق کے ذریعے استعمال کر کے عمران خان آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہونگے،انہوں نے کہا کہ ماضی میں اٹھارویں ترمیم نہ ہونے کی وجہ سے ملک دو لخت ہو چکا ہے لہٰذا 1971کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر اٹھارویں ترمیم کو چھیڑنے سے گریز کیا جائے۔