پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے صوبے کو درپیش شدید مالی بحران پر صوبائی حکومت سے وضاحت طلب کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکمران خزانہ خالی ہونے کی وجوہات سے قوم کو آگاہ کریں۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس صرف چند ماہ کی تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے رقم موجود ہے اور اس کے علاوہ خزانے میں کچھ باقی نہیں رہا انہوں نے کہا کہ نئی ترقیاتی سکیموں اور منصوبوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا البتہ جاری منصوبوں کیلئے حکومت کے پاس کچھ نہیں،انہوں نے کہا کہ حکومت جلد از جلد اسمبلی کا اجلاس بلائے اور صوبے کی زبوں حالی کی وجوہات سے اسمبلی کو آگاہ کرے،انہوں نے کہا کہ صبح و شام دوسروں پر الزامات لگانے اور کیچڑ اچھالنے والے مسلط حکمران اور وزراء اپنے کام سے نہ صرف غافل بلکہ بے خبر ہیں، سردار حسین بابک نے کہا کہ تبدیلی سرکار کی حکومتیں روزانہ ٹیکسوں میں اضافہ،نئے ٹیکسوں کے نفاذ کے ساتھ تمام مکاتب فکر پر جرمانے لگا کر عوام کو ذہنی مریض بنا دیا ہے، انہوں نے کہا کہ عوام کی قوت خرید جواب دے گئی ہے مہنگائی اور بے روزگاری کے طوفان سے عوام خودکشیوں پر مجبور ہیں،مسلط حکومت نے گزشتہ6ماہ میں تمام کاروبار تباہ کر دیئے ہیں،انہوں نے کہا کہ تاریخ میں ایسا موقع کبھی نہیں آیا جب کاروباری طبقہ اس حد تک مایوسی کا شکار ہوا ہو ، کرپشن کے خاتمے کی آڑ میں تھوک و پرچون کی بنیاد پر کرپشن اور کمیشن کا بازار گرم ہے،حکومت میں کوئی ذمہ دار اور سنجیدہ شخصیت دکھائی نہیں دے رہی اس کے برعکس حکومتی امور و انتظام کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے، سردار بابک نے کہا کہ سرکاری شعبے وینٹی لیٹر پر ہیں ،سفارش،رشوت اور اقربا پروری کی بنیاد پر سرکاری ملازمین کے تبادلوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے،انہوں نے کہا کہ جونیئر افسران کو بڑے بڑے عہدوں پر لگایا جا رہا ہے ،اختیارات کا ناجائز استعمال جاری ہے اور صبح و شام تمام محکموں کے سربراہوں کو برائے نام اجلاسوں میں بٹھا کر وقت ضائع کیا جا رہا ہے ، سردار بابک نے مزید کہا کہ حکومتی امور ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں سرکاری ملازمین کی تذلیل اور مخالفین کی پگڑیاں اچھالی جا رہی ہیں جس کے باعث کوئی افسر کسی فائل کو ہاتھ نہیں لگا رہا ، ٹیسٹنگ اداروں کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے اور غریب عوام سے پیسے بٹورے جا رہے ہیں،انہوں نے خبردار کیا کہ حکومت ہوش کے ناخن لے اور قومی وسائل کے ساتھ کھلواڑ بند کر دے۔