عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے مرکزی وصوبائی حکومتوں اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ لاپتہ افراد کی رہائی کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں اور قوم کو اس حقیقت سے آگاہ کیا جائے کہ ان لاپتہ افراد کو اٹھانے اور غائب کرنے میں کون ملوث ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈسٹرکٹ بار روم پشاور میں ملگری وکیلان کے زیر اہتمام ہفتہ باچا خان اور ولی خان کے سلسلے میں منعقدہ برسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر انہوں نے باچا خان اور ولی خان کی جدوجہد آزادی پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ اگر باچا خان اور ولی خان کی تاریخی جدوجہد نہ ہوتی تو شاید آج یہ ملک بھی نہ ہوتا، انہوں نے کہا کہ اس ملک کا اپنا ایک آئین موجود ہے تاہم بادی انظر میں بعض شخصیات کے مفادات کی خاطر فیصلے کئے جا رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ملک کی پالیسیاں قومی مفاد میں بنائی جائیں کیونکہ پاکستان ماورائے آئین پالیسیوں اور فیصلوں کا متحمل نہیں ہو سکتا، سردار حسین بابک نے کہا کہ حکومتی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ طاہر داوڑ کو اسلام آباد سے اغوا کیاجاتا ہے اور افغانستان سے اس کی لاش ملتی ہے لیکن حکومت بے خبر رہی اور جب اس معاملے کے خلاف ہم نے اسمبلی میں قرارداد پیش کی تو حکومتی ممبران اوپر سے آئے حکم کے مطابق اٹھ کر چلے گئے تاکہ کورم کا مسئلہ پیدا کیا جائے،انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی وصوبائی حکومتیں مسلسل پختونوں کے حقوق پر سودے بازی کر رہی ہیں،قومی وسائل صرف اس لئے این ایل سی اور ایف ڈبلیو او کو دیئے جا رہے ہیں تاکہ پولنگ والے دن وہ ان کے سیاسی مخالفین کو ہرانے میں اپنا کردار ادا کریں،انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک عجیب تماشہ جاری ہے اور حکومت چین کی بانسری بجا رہی ہے ، صحافتی اداروں سے ہزاروں ملازمین بے روزگار کر دیئے گئے جبکہ الیکٹرانک میڈیا پر پسند نا پسند کی بنیاد پر فیصلے مسلط کئے جا رہے ہیں۔سردار بابک نے مزید کہا کہ لاکھوں سائلین عدالتوں میں مقدمات نمٹائے جانے کے انتظار میں بیٹھے رہے اور بدقسمتی سے سابق چیف جسٹس ڈیم کی مہم میں لگے رہے، تمام اداروں کو اپنے آئینی اختیارات کے اندر رہتے ہوئے کام کرنا چاہئے تاکہ محکوم عوام میں احساس محرومی پیدا نہ ہو،انہوں نے کہا کہ ملک میں پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے اعلانات خوش آئند ہیں تاہم حکومت بتائے کہ قبائلی عوام کی تباہ شدہ املاک کاروبار اور گھروں کی تعمیر کی ذمہ داری کون پوری کرے گا،انہوں نے کہا کہ آپریشنز سے بے گھر اور متاثر ہونے والے قبائلی عوام عرصہ دراز سے کیمپوں میں بڑے ہیں لیکن ان کی باعزت واپسی کیلئےء کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے جو ان کے زخم مزید کریدنے کے مترادف ہے،انہوں نے کہا کہ سب کچھ ایک سازش کے تحت کیا جا رہا ہے اور مخصوص قوتیں اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں،جبکہ مطلوبہ مقاصد میں ناکامی کے آثار دیکھ کر ملک میں صدارت نظام لانے کی بازگشت چھیڑ دی گئی ہے ، سردار بابک نے واضح کیا کہ اے این پی اٹھارویں ترمیم کی حفاظت کرنا جانتی ہے اور صوبوں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو اے این پی سڑکوں پر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی راستے بند ہونے کی وجہ سے صوبے کی سب سے بڑی پیداوار گڑ طورخم بارڈر پر پڑا ہے جسے ایکسپورٹ کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔انہوں نے کہا کہ تمباکو ہمارے صوبے کی بڑی کاشت ہے اور کاشتکاروں کے ہاتھ باندھ دیئے گئے ہیں ،انہوں نے کہا کہ وقت ثابت کرے گا کہ اے این پی ہی پختونوں کی حقیقی نمائندہ جماعت ہے۔