پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ آج تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں کوئی بھی ملک تشدد کی حمایت نہیں کرتا اور دنیا باچا خان بابا کے دیئے گئے عدم تشدد کے فلسفے پر غور وفکر کر رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز میں برسی تقریبات کے حوالے سے تیاریوں کا جائزہ لینے اور اس سلسلے میں مختلف اضلاع سے آئے پارٹی وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے کہا کہ اس بار فخر افغان باچا خان اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کی برسی تقریب ملک بھر میں مختلف انداز سے منائی جا رہی ہے اور اس حوالے سے تقریبات ایک ہفتہ مختلف صورتوں میں جاری رہیں گی، انہوں نے کہا کہ ان تقریبات کا مقصد نوجوان نسل اور دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ باچا خان نے تمام مسائل کے حل کیلئے عدم تشدد کا ہتھیار دیا اور اب وقت آ گیا ہے کہ لوگوں کو باچا خان بابا کے فلسفہ سے مکمل آگاہی ہونی چاہئے کیونکہ امن کے قیام کیلئے اس کے علاوہ اب کوئی دوسرا راستہ نہیں ، انہوں نے کہا کہ باچا خان نے قوم کو غلامی سے آزاد کرانے کیلئے جدوجہد کی اور آزادی کیلئے ضرورتِ علم کو محسوس کرتے ہوئے بے شمار سکول قائم کئے ،اور قلم کے فلسفے کے ذریعے انگریز کو نکال کر قوم کو آزادی دلائی انہوں نے کہا کہ آج تاریخ نے ثابت کر دیا ہے کہ فخر افغان باچا خان اور ولی خان بابا کی فکر ہی دراصل عدم تشدد، ملک دوستی اور عوام دوستی پر مبنی تھی اور ان کی سوچ کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے کبھی نہیں تھی، انہوں نے کہا کہ باچا خان بابا کی عدم تشدد اور امن کے حوالے سے سوچ و فکر لوگوں میں شعور پیدار کر رہی ہے اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان نے اپنے والد کے مشن کا تسلسل جاری رکھتے ہوئے سماجی انصاف کیلئے کوششیں جاری رکھیں، انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی بقا کیلئے خان عبدالولی خان کا کردار تاریخ کا انمٹ باب ہے ۔،انہوں نے کہا کہ ولی خان جمہوریت کے حقیقی علمبردار تھے اور اگر جمہوریت سے خان عبدالولی خان کا نام نکال دیا جائے تو ملک میں کچھ بھی باقی نہیں رہتامیاں افتخار حسین نے کہا کہ برسی تقریبات ،خیبر پختونخوا سمیت ،پنجاب ،سندھ ،بلوچستان اور سرائیکی صوبے میں منائی جائیں گی اور 27جنوری کو بڑی تقریب پنجاب جبکہ28جنوری کو ملتان میں ہونگی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور پختونوں کے اتحاد و اتفاق کا متقاضی ہے اور تمام پختون اسفندیار ولی خان کی قیادت میں سرخ جھنڈے تلے متحد ہو کر اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے یکجا ہو جائیں۔