پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے خلاف کی جانے والی سازشیں ناکام ہونگی اور ترمیم کی کسی بھی شق کو چھیڑا گیا تو اے این پی اس کے خلاف بھرپور مزاحمت کرے گی، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملتان پریس کلب میں باچا خان اور ولی خان کی برسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر مسلم لیگ کے سینئر رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نے بھی خصوصی شرکت کی ،میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں باچا خان اور ولی خان کی زندگی اور جدوجہد کے حوالے سے خصوصی روشنی ڈالی اور تحریک آزادی کیلئے کی جانے والی کوششوں پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا، انہوں نے کہا کہ اس بار برسی تقریبات منفرد انداز میں منائیں گئیں جن کا مقصد نوجوان نسل اور دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ باچا خان نے تمام مسائل کے حل کیلئے عدم تشدد کا ہتھیار دیا اور اب وقت آ گیا ہے کہ لوگوں کو باچا خان بابا کے فلسفہ سے مکمل آگاہی ہونی چاہئے کیونکہ امن کے قیام کیلئے اس کے علاوہ اب کوئی دوسرا راستہ نہیں ، انہوں نے کہا کہ باچا خان نے قوم کو غلامی سے آزاد کرانے کیلئے جدوجہد کی اور آزادی کیلئے ضرورتِ علم کو محسوس کرتے ہوئے بے شمار سکول قائم کئے ،اور قلم کے فلسفے کے ذریعے انگریز کو نکال کر قوم کو آزادی دلائی انہوں نے کہا کہ آج تاریخ نے ثابت کر دیا ہے کہ فخر افغان باچا خان اور ولی خان بابا کی فکر ہی دراصل عدم تشدد، ملک دوستی اور عوام دوستی پر مبنی تھی اور ان کی سوچ کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے کبھی نہیں تھی، انہوں نے کہا کہ باچا خان نے تمام قوموں کے حقوق کی بات کی جس پر انہیں زندگی کے38سال جیلوں میں گزارنا پڑے ،انگریز کے جانے کے بعد جب ہمیں حقوق ملنے کا وقت آیا تو پاکستان کی سالگرہ سے دو روز قبل سینکڑوں خدائی خدمتگاروں کو شہید کر دیا گیا،ملکی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آج کل اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کے حوالے سے کوششیں کی جا رہی ہیں اور اٹھارویں ترمیم کے خلاف سازش پاکستان کے خلاف سازش ہو گی ، انہوں نے کہا کہ ملک کی بقا اور جمہوریت کی بالادستی کیلئے اٹھارویں ترمیم ایک ہتھیار ہے اور اگر اس وقت یہ انقلاب نہ آتا تو ملک دو لخت بھی ہو سکتا تھا، انہوں نے کہا کہ اس ترمیم کے ذریعے چھوٹے صوبوں کو ان کے حقوق دیئے گئے جس سے ان میں پائی جانے والی احساس محرومی ختم ہوئی جو موجودہ حکومت سے ہضم نہیں ہو رہی، در حقیقت اسٹیبلشمنٹ نے اٹھارویں ترمیم ختم کرنے کیلئے عمران خان کو اقتدار تک پہنچایا ،میاں افتخار حسین نے کہا کہ صحت اور تعلیم سمیت مختلف محکمے صوبائی خود مختاری کے تحت صوبوں کو حوالہ کئے گئے ہیں لیکن بدقسمتی سے وفاقی حکومت صوبائی محکموں میں مداخلت کر کے آئینی خلاف ورزیوں کی مرتکب ہو رہی ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے چھوٹے صوبوں کو مضبوط کر کے ملک کو مضبوط کیا لہٰذا وفاق چھوٹی قومیتوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈال کر خود کو طاقتور بنانے کی غلطی سے گریز کرے،،انہوں نے کہا کہ اگر آج پارلیمنٹ کے فیصلوں کو بے توقیر کیا گیا تو پارلیمانی فیصلوں میں مداخلت کی گئی تو مستقبل میں دیگر اداروں کا مستقبل بھی خطرے میں ہو گا اورتمام اداروں کی ایکدوسرے کے معاملات میں مداخلت کی روایت پڑ جائے گی جو ملک کی یکجہتی اور جمہوریت کی بقا کیلئے نیک شگون نہیں ۔انہوں نے کہا کہ مسلط کردہ حکومت سے جان چھڑانے کیلئے اپوزیشن کی تمام جماعتوں کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے، میاں افتخار حسین نے خیسور اور ساہیوال سانحات کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ دونوں واقعات کے مجرموں کو متاثرہ گھروں کے سامنے پھانسیاں دی جائیں تاکہ قوم کا مستقبل محفوظ ہو سکے، انہوں نے کہا کہ پائیدار امن ملک کے مفاد میں ہے اور افغان امن مذاکرات کی کامیابی کیلئے دعا گو ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ مذاکراتی عمل میں افغان حکومت کی شرکت لازمی ہے ، کیونکہ افغانستان میں امن کے حوالے سے اصل فریق افغان حکومت ہے اور اس کے بغیر مذاکرات کی کامیابی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔