پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ سانحہ ساہیوال انتہائی دردناک ہے اور حکومت کو مذمتی بیانات سے بڑھ کر کاروائی کرنا ہو گی، ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوات میں باچا خان اور ولی خان کی برسی کے موقع جلسہ سے قبل میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ سانحہ ساہیوال نے ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کر دیئے ہیں ،کاروائی ضرور کی جائے لیکن صرف قتل عام کرنے والوں کے خلاف نہیں بلکہ ان لوگوں کے خلاف بھی کی جاءئے جنہوں نے سی ٹی ڈی کو شہریوں کے قتل عام کا لائسنس دیا ہے، انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ساہیوال واقعہ پر پوائنٹ سکورنگ کی جا رہی ہے اور اتنے بڑے سانحہ کے بعد حکومت کو پولیس اصلاحات کی یاد آ گئی ، انہوں نے کہا کہ 6ماہ تک حکمران کس چیز کا انتظار کرتے رہے ، اصلاحات کا جو ھال حکومت نے کیا وہ قوم کے سامنے ہے اور آئی جی پنجاب ، آئی جی اسلام آباد اور ڈی پی او پاک پتن کے تبادلوں کی کہانیاں کسی سے پوشیدہ نہیں، امیر حیدر خان ہوتی نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ وزرا ء انتظامی معاملات میں بے جا مداخلت کر رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ راؤ انوار ریٹائر تو ہو گیا لیکن آج تک وہ آزاد ہے اور سرکاری پروٹوکول میں پھر رہا ہے،اگر اس وقت چار سو سے زائد بے گناہوں کے قاتل کو پھانسی پر چڑھایا جاتا تو ساہیوال کے بے گناہ خاندان کی زندگیاں بچ جاتیں، انہوں نے خبر دار کیا کہ حکمران جس راستے پر چل رہے ہیں وہ تباہی کا راستہ ہے اور غیر سنجیدہ حکمران ملک کو تباہی کی طرف لے کر جا رہے ہیں۔