پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی پرچی فیس میں غیر ضروری اور انوکھے اضافے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی عوام دشمنی میں اب کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہی ،باچا خان اور ولی خان برسی تیاریوں کے حوالے سے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اے این پی بارہا عوام کی توجہ اس جانب مبذول کراتی رہی ہے کہ حکومت نے صوبے کے وسائل کو کمائی کا ذریعہ بنا رکھا ہے اور ذاتی تجوریاں بھرنے کی خاطر عوام کی کھال اتارنے کیلئے ہر حربہ استعمال کیا جا رہا ہے، صحت کی سہولیات یقیناًان ترجیحات میں سرفہرست ہونی چاہئیں، مگر زمینی حقائق اس سے مختلف تصور پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں سرکاری ہسپتالوں میں محدود سہولیات اور ادویات کی عدم فراہمی کے باعث ہزاروں آپریشن التوا کا شکار ہوجاتے ہیں، جسے سرکار کی محدود دلچسپی، غفلت یا ناکامی کے باعث ٹالا نہیں جاسکتا اور لوگ مجبوراً پرائیویٹ ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ نیازی کی حکومت نے سرکاری ہسپتالوں کا حلیہ بگاڑ کر نجی شعبہ کو ترغیب دی ، جن لوگوں نے کرپشن کے خاتمے کی آڑ میں آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے ان کو چاہئے کہ محکمہ صحت خیبر پختونخوا میں ہونے والی بد عنوانیوں اور نا اہلی پر مبنی پالیسیوں کی بھی چھان بین کریں کیونکہ صوبے کو عملاً بد ترین بد انتظامی، اقربا پروری اور ادارہ جاتی نا اہلی کا سامنا ہے، لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں غریب مریضوں کیلئے مفت علاج کی سہولت پہلے ہی ختم کر دی گئی اور اب فنڈز کی کمی کا بہانہ بنا کر پرچی فیس میں150فیصد اضاٖفہ کر کے اپنی عیاشیوں کیلئے دولت اکٹھی کی جا رہی ہے، ایمل ولی نے کہا کہ ہسپتالوں میں غریب مریضوں کو صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کر نے کی بجائے ان کے حقوق غصب کئے جا رہے ہیں جو صوبے کی تاریخ کی بد ترین مثال ہے، انہوں نے اس امر پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا کہ ہیلتھ پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے محکمہ صحت کو تجربہ گاہ بنا کر مفروضوں کی بنیاد پر چلایا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت میں اجتماعی نوعیت کے عوامی فیصلے فرد واحد کی سوچ کے تحت کئے جا رہے ہیں، صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ صوبائی حکومت ایک منظم منصوبے کے تحت بڑی بڑی کمپنیوں کیلئے راہ ہموار کر رہی ہے اور اب اقربا پروری کی خاطر صوبے کے بڑے ہسپتالوں کو بیچنے کیلئے راہ ہموار کی جا رہی ہے ۔