پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے 23جنوری کو متوقع منی بجٹ میں150ارب کے نئے ٹیکسز کی باز گشت کو حکومت کی عوام دشمنی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ نیازی حکومت نے ملک کو خیراتی ادارہ سمجھ کر لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے ،عوام پر مزید ٹیکسز لگائے گئے تو اے این پی آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کرے گی۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک نالائقوں کے حوالے کر دیا گیا ہے اور حکومت کولانے والے خود حیران و پریشان ہیں،انہوں نے کہا کہ مزید ٹیکسز کا نفاذ ملک کا ریاستی تشخص ملیامیٹ کرنے کی سازش ہے اور اس سازش میں بیساکھیوں پر کھڑی حکومت اور اسے لانے والے کرتا دھرتا شامل ہیں، ملک میں احتساب کے نام پر انتقام ہورہا ہے جو زیادہ دیر نہیں چلے گا، ایمل ولی خان نے کہا کہ نا اہل حکمران اس وقت بھکاری بنا ہوا ہے،پاکستان کا وزیر اعظم کشکول لے کر پوری دنیا میں گھوم رہا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب اس سول آمریت سے عوام کی جان جلد چھوٹ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لئے احتساب کا ڈرامہ رچایاجارہا ہے جبکہ کرپٹ مافیا عوام پر ٹیکسز کا بوجھ ڈال کر غربت کی بجائے غریب کو ختم کرنے پر تلا ہوا ہے،انہوں نے کہا کہ ملک پر مسلط سول آمریت سے ملکی سالمیت اور جمہوریت کی بقا خطرے میں ہے۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے 18بے نامی اکاؤنٹ بارے سٹیٹ بنک کی رپورٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ پوری جماعت ہی کرپٹ ہے، انہوں نے کہا کہ عمران خان ان کے فرنٹ مین اور فرنٹ لیڈی پر بھی ہاتھ ڈالا جائے ، انہوں نے کہا کہ حکومت نے احتساب کے نعرے کو سیاست کے لیے استعمال کیا اگر کرپشن فری پاکستان حکومت کی ترجیح ہوتا تو احتساب پر موجود گردو غبار چھٹ چکا ہوتا اور لوٹی گئی قومی دولت کی واپسی کا میکنزم بن چکا ہوتا ۔
ایمل خان نے مزید کہا کہ آج وفاق خطرے میں ہے ، چھوٹے صوبے ٹھیکیداروں کی طرز سیاست سے نالاں ہیں، 18ویں آئینی ترامیم صوبوں کے آئینی حقوق اور خود مختار ی کی ضمانت ہے لیکن آج اس پر کھلے عام حملہ کیا جارہا ہے اور ایک مرتبہ پھر صوبوں کے مالی وسائل پر ڈاکہ ڈالنے کی تیاری کی جارہی ہے ،ٹھیکیداروں کو اندازہ نہیں کہ وہ کتنا خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں۔