پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ جس گھر کے چوکیدار اس کے زبردستی مالک بننے کی کوشش کریں وہ گھر زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا،احتساب کے نام پر سیاستدانوں کے خلاف ٹرائل بند کر کے ملک کے 80فیصد دفاعی بجٹ کا بھی احتساب کیا جانا چاہئے،زرعی یونیورسٹی پشاور میں ہفتہ باچا خان اور ولی خان کے سلسلے میں پختون ایس ایف کے زیر اہتمام برسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ملک میں در اصل وسائل پر اختیار کی جنگ جاری ہے اور طاقتور قوتیں مظلوم و محکوم پختونوں کے حقوق پر ڈاکے ڈالنے کیلئے پر تول رہی ہیں، انہوں نے باچا خان اور ولی خان کی زندگی پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ہمارے اسلاف نے انگریزوں کے خلاف جو جدوجہد اور قربانیاں دیں ان کے نتیجے میں یہ ملک آزاد ہوا تاہم بدقسمتی سے ملک کی باگ ڈور ان لوگوں کے پاس ہے جن کے آباؤ اجداد انگریزوں کو سیلوٹ کرتے نہیں تھکتے تھے،ایمل ولی خان نے کہا کہ73کا آئین خان عبدالولی خان کی بدولت آج تک موجود ہے اور جمہوریت سے ان کا نام نکال دیا جائے تو ملک میں کچھ باقی نہیں رہتا، انہوں نے مزید کہا کہ 80فیصد بجٹ ایسے ملک کے دفاع پر خرچ ہوتا ہے جس میں شہریوں کی جان و مال تک محفوط نہیں دن دیہاڑے عوام کو گولیوں ے چھلنی کر دیا جاتا ہے ،انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کی بجائے سب سے پہلے اسی فیصد بجٹ کا احتساب کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ اے این پی کا کوئی لیڈر نیب زدہ یا پانامہ زدہ نہیں،ہمارے پاس اپنے اسلاف کا فلسفہ اور ان کی سوچ و فکر موجود ہے لہٰذا ہمیں سلائی مشینوں کے کاروبار کی ضرورت نہیں،انہوں نے کہا کہ جو ملی مشر اسفندیار ولی خان پر ملائشیا اور دبئی میں جائیدادوں کا الزام لگاتا ہے وہ ثبوت کے ساتھ پیش کرے ہم ان میں سے آدھی جائیداد ڈیم کیلئے دے دینگے،انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفین کو راستے سے ہٹانے کیلئے احتساب کا نعرہ لگایا جا رہا ہے ،شفاف اور بلا امتیاز احتساب صرف اسی صورت ممکن ہے جب عمران خان اور اس کی بہنوں کے احتساب کیلئے جے آئی ٹی بنائی جائے،انہوں نے آباؤ اجداد سے جائیداد وراثت میں ملنے کے علیمہ خان کے بیان پر تعجب کا اظہار کیا اور کہا کہ جس کے والد کو کرپشن کرتے ہوئے نوکری سے نکالا گیا ماں پیسے نہ ہونے کی وجہ سے کینسر سے مر گئی انہیں وراثت کہاں سے مل گئی؟ایمل ولی خان نے ساہیوال واقعے کی ایک بار پھر مذمت کی تاہم انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ صبح شام ساہیوال واقعے پر زمین آسمان سر پر اٹھانے والے میڈیا نے خیسور واقعے کا بلیک آؤٹ کر رکھا ہے،جس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ شاید پنجاب ہی پاکستان ہے ،پختونوں کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے مارا جا رہا ہے لیکن کوئی پرسان حال نہیں، انہوں نے کہا کہ ملک میں جب کبھی کوئی سانحہ ہوا مسلط وزیر اعظم بیرون ملک فرار ہو جاتا ہے،انہوں نے کہا کہ بیچارے کٹھ پتلی وزیراعظم کی اتنی اوقات نہیں کہ وہ اپنے آقاؤں سے عوام کے بارے میں بات کر سکے اسے صرف یس سر نو سر کہنے کی ڈیوٹی دی گئی جو وہ بخوبی انجام دے رہا ہے،آخر میں ایمل ولی خان نے طلباء پر زور دیا کہ وہ باچا خان کے عدم تشدد کے فلسفے پر سختی سے کاربند رہیں اور اپنی تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ پارٹی کا پیغام گھر گھر پہنچانے کیلئے دن رات محنت کریں۔