پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہاہے کہ صوبے میں جعلی ٹیسٹنگ ایجنسیز کے ذریعے اساتذہ کی بھرتی کا سلسلہ فی الفوربندکیاجائے’ٹیسٹوں کے نام پر معصوم اور سادہ لوح بے روزگار نوجوانوں سے اربوں روپے بٹورے گئے ہیں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے اور ان کا مستقبل ٹھیکیداری اداروں کے سپردکردیا گیا ہے جو کہ قابل افسوس ہے’ انہوں نے کہا کہ صوبے کے تقریباً ہرضلع میں پیپرزآئوٹ ہونا معمول بن گیا ہے’ جعلی اداروں کے ذریعے غریب نوجوانوں پر ٹیسٹ کی شرط رکھ کر ان کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ‘ پیپرز پاس کرنے اور آئوٹ کرنے کے بہانے صوبے کے طول وعرض میں نوجوانوں سے لاکھوںروپے رشوت طلب کی جاتی ہے اور انہیں پاس کرنے کا جھانسہ دیا جارہا ہے صوبے میں یہ کھیل کھلے عام جاری ہے جس پر حکومت نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں اور خاموش تماشائی کا کردار اداکررہی ہے جبکہ جعلی ٹیسٹنگ ایجنسیز کروڑوں اربوں کمارہی ہیں’ اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری نے مزید کہا کہ صوبے میں تعلیم کے ساتھ یہ مذاق بند ہونا چاہئے اور اساتذہ کی بھرتی مکمل طورپر تعلیمی قابلیت کی بنیاد پر ہونی چاہئے تاکہ اقربا پروری اوررشوت کا کھیل ختم ہوجائے انہوں نے کہا کہ صوبے کے وسائل پر قبضہ جمانے اور صوبے کو غیروں کے ہاتھوں کاروبار اور آمدنی کا ذریعہ بنانے نے صوبے کے تعلیمی ماحول کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ سردار حسین بابک نے کہا کہ حکومت وضاحت کرے کہ اساتذہ کی بھرتی کو جعلی ٹیسٹنگ ایجنسیز سے مشروط کرنا اپنے امتحانات پر عدم اعتماد کا اظہار نہیں؟ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں سے کروڑوں روپیہ بٹورنے اور طلباء وطالبات کے مستقبل سے کھیلنے کا کھیل فوری طوری پر بند ہوناچاہئے ‘ حکومت وضاحت کرے کہ کس کے کہنے پر جعلی ٹیسٹنگ ایجنسیز کے ذریعے تعلیم یافتہ اور قابل نوجوانوں کا مستقبل دائو پر لگایا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ تعلیمی قابلیت کے ذریعے اساتذہ کی بھرتی میں قابل ترین اور اہل لوگ میرٹ پر بھرتی ہونگے جو کہ معیاری تعلیم کو یقینی بنانے میں کلیدی کردارادا کر ینگے۔