پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم عمران خان کی جذباتی تقریر کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایٹمی جنگ کی دھمکیوں سے مسئلہ کشمیر حل ہونے کی بجائے مزید بگڑے گا، وزیر اعظم کی تقریر پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان نے مسئلہ کشمیر کو درست طریقے سے نہیں اٹھایا اور اس کے برعکس جنگ اور ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکیاں دیتے رہے، وزیر اعظم نے سرے سے کشمیریوں کے حق خود ارادیت پر بات ہی نہیں کی،پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ یہاں پر حق خود ارادیت کو محدود معنوں میں لیا جاتا ہے،عمران خان نے بھی مودی کی طرح اپنی تقریر میں کشمیریوں سے یہ حق چھین لیا کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں،جب تک شملہ معاہدے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کو اپنے مستقبل کے فیصلے کاحق نہیں دیا جائے گا تو یہ ڈراموں سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں،اسفندیار ولی خان نے کہا کہ جذباتی تقریروں سے مسائل سلجھنے کی بجائے مزید الجھیں گے اور اس کا منفی اثر کشمیریوں کے شب و روز پر پڑے گا، انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے حسب عادت اپنے ملک اور سیاسی مخالفین کو بین الاقوامی فورم پر اٹھا کر ملک کے تشخص کا خود مذاق اڑایا،بین الاقوامی فورم پر منی لانڈرنگ کے خلاف بات کرنے سے پہلے وزیر اعظم کو سوچنا چاہئے تھا کہ ان کے سامنے زلفی بخاری براجمان ہیں جن پر آفشور کمپنیوں اور منی لانڈرنگ کے کیسز کسی کے اشارے پر دبائے جا رہے ہیں،لیکن یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی میں زلفی بخاری،جہانگیر ترین،علیمہ خان وغیرہ سرٹیفائیڈ منی لانڈرز اور آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں، انہوں نے کہا کہ عمران خان بیرونی دنیا میں مذہب کارڈ استعمال کر کے ہمدردیاں حاصل کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہے لیکن اپنے ہی ملک میں عبایا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ان کی اپنی حکومتیں کنفیوژن کا شکار ہیں، انہوں نے کہا کہ مذہب عبایا تک محدود نہیں، حقیقت یہ ہے کہ آج عمران خان ہر محاذ پر ناکام ہونے کے بعد مذہب کا کارڈ استعمال کر رہے ہیں،اسفندیار ولی خان نے اس امر پر انتہائی حیرت اور تعجب کا اظہار کیا کہ عالمی فورم پر صوبہ خیبر پختونخوا میں 5ارب پودوں کی بات کی گئی لیکن یہ نہیں بتایا کہ ان میں کروڑوں کی کرپشن کی گئی جس پر پردہ ڈالنے کیلئے بعد میں پہاڑوں پر آگ لگا دی گئی، انہوں نے کہا کہ عمران نیازی نے دہشت گردی کے فروغ میں ڈکٹیٹروں کے ملوث ہونے کا اعتراف کیا لیکن بدقسمتی سے آگ و خون کے اس کھیل میں جانیں لٹانے والے پختونوں اور سیکورٹی اداروں کی قربانیوں کا اعتراف نہ کر کے شہیدوں کے لہو سے غداری کی، انہوں نے کہا کہ آج جو باتیں عمران خان نے کیں چالیس برس قبل ہمارے اکابرین اس حوالے سے متنبہ کرتے رہے جس کی پاداش میں انہیں غدار اور مختلف ملکوں کا ایجنٹ کہا جاتا رہا، انہوں نے کہا کہ چالیس برس بعد ہمارے مؤقف کی تائید ہونے کے بعد اس وقت کے تمام محرکات کو قوم کے سامنے لا کر معافی مانگنی ہو گی۔