پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ عمران خان اور ٹرمپ ایک ہی سکے کے دورخ ہیں، خطے کے دیرپا امن کے قیام کیلئے افغان امن عمل کا آغاز خوش آئند ہے تاہم اس میں افغانستان کی حکومت کو بہر صورت شامل کیا جانا چاہئے،پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے کیونکہ حکمرانوں کے طالبان سے بہترین تعلقات ہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز پشاور میں اے این پی سٹی ڈسٹرکٹ کے زیر اہتمام سرتاج خان شہید کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان،مرکزی سیکرٹری امور خارجہ سید عاقل شاہ، مرکزی سیکرٹری مالیات حاجی ہدایت اللہ خان،صوبائی کلچرل سیکرٹری نثار خان،دانیال بلورسمیت دیگر قائدین نے شرکت کی،میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں شہید سرتاج خان کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ سرتاج خان نے کم عرصے میں خدمت کی اعلی مثال قائم کی اور اپنی محنت سے صدر کے عہدے تک پہنچے تھے،انہوں نے کہا کہ اب بات مذمت سے کہیں آگے بڑھ چکی ہے مزید خاموش نہیں رہیں گے، مستقبل میں اے این پی کو ٹارگٹ کیا گیا تو مزاحمت کریں گے،انہوں نے کہا کہ ظلم کی سیاہ رات کے خلاف جنگ جاری رہے گی،پولیس شہدا کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یوم شہدا پر منعقدہ سرکاری تقریب میں مدعو کیا گیا تاہم وزیر اعلیٰ اور گورنر کے ساتھ سیاسی و نظریاتی اختلاف کی وجہ سے شرکت نہیں کی، انہوں نے تمام پولیس شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے ہم نے پولیس کی خصوصی تربیت پر توجہ دی اور اہلکاروں کی تعداد40ہزار سے بڑھا کرتقریباً 80ہزار کر دی گئی،اور ساتھ ہی ان کی تنخواہوں میں بھی مشترکہ طور پر دوگنا اضافہ کر دیا گیا، جبکہ بعد ازاں ان کی تنخوا میں مزید اضافہ بھی کیا، انہوں نے کہا کہ ان تمام اقدامات کیلئے وسائل کی ضرورت تھی تاہم دہشت گردی کے خاتمے اور امن کی بحالی کیلئے ہم نے یہ گھونٹ پیا، میں افتخار حسین نے کہا کہ ہم نے اپنے دور میں پولیس جوانوں کی تربیت فوجی انداز میں کرائی جبکہ شہداء پیکج 3لاکھ سے بڑھا کر30لاکھ کر دیا گیا، دوران ملازمت شہید ہونے والے اہلکاروں کے بچوں کو نوکریاں دینے کے ساتھ ساتھ ان کی تنخواہ بھی ان کے لواحقین کو ملتی رہی، انہوں نے کہا کہ پولیس کو جدید اسلحہ کی فراہمی کے ساتھ ساتھ تھانوں کو مضبوط بنایا گیا تاکہ وہ دہشتگردوں کے مذموم حملوں سے محفوظ رہ سکیں، انہوں نے کہا کہ پشاور پر17بار لشکر کشی کی گئی جسے پولیس کے جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر ناکام بنایا، میاں افتخار حسین کہا کہ اے پی ایس کے شہداء کی قربانیوں کے نتیجے میں پوری قوم ایک متفقہ20نکاتی ایجنڈے پر متفق ہوئی لیکن بدقسمتی سے اسے مصلحت کے نذر کر دیا گیا جس کی وجہ سے آج دہشت گرد پھر سے منظم ہو چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ گڈ اور بیڈ کا فرق کئے بغیر تمام دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کاروائی کی جائے، انہوں نے کہا کہ حافظ سعید کا کارڈ امریکہ کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے، ریاست بیشتر کالعدم تنظیموں کو سپورت کر رہی ہے، جو امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے،انہوں نے کہا کہ ملک کی خارجہ و داخلہ پالیسیاں تبدیل کئے بغیر امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔