پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ سرتاج خان کا بہیمانہ قتل اے این پی کی ٹارگٹ کلنگ کے سلسلے کی کڑی ہے،باجوڑ، پشاور اور سوات میں اے این پی کے رہنماؤں پر فائرنگ ریاستی اداروں اور حکومت کی ناکامی ہے، سرتاج خان کے بہیمانہ قتل کے خلاف صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اے این پی کو گھٹنے ٹیکنے کیلئے نشانہ بنایا جا رہا ہے،ہر بار الیکشن سے قبل اے این پی کو دیوار سے لگانے کیلئے ایسا ماحول پیدا کر دیا جاتا ہے،2013کے انتخابات میں اے این پی کو بری طرح نشناہ بنایا گیا جبکہ گزشتہ برس ہونے والے الیکشن سے قبل بھی ہارون بلور کو ان کے ساتھیوں سمیت شہید کر دیا گیا،انہوں نے کہا کہ اس بار قبائلی اضلاع میں الیکشن سے قبل ایک بار پھر دہشت گردوں کو اے این پی کے قتل عام کا لائسنس جاری کیا گیا ہے جو ہمارے لئے اب کسی طور قابل برداشت نہیں، میاں افتخار حسین نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،جو شخص کل تک درون حملوں کے خلاف دھرنے دیتا تھا آج پختونوں کے قتل عام پر خاموش ہے، انہوں نے آرمی چیف کے بیان پرافسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت سے تعاون کی حمایت مانگنے والے آرمی چیف در اصل اپنے لئے حمایت طلب کر رہے ہیں، ملک میں حکومت فوج کی ہے لیکن سامنے عمران کو کٹھ پتلی کے طور پر رکھا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری کے انٹرویو کو رکوانے والے میڈیا کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں اور پختونوں کے قاتل دہشت گرد کو ہیرو بنا کر پیش کر رہے ہیں، ہم ڈرنے اور جھکنے والے نہیں، قوم اور دھرتی پر امن کیلئے دہشت گردوں کے سامنے ڈٹے رہیں گے،انہوں نے کہا کہ اے این پی کو ٹارگٹ کرنے کے واقعات تسلسل سے جاری ہیں جبکہ ریاست اور حکومت تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں، نازک وقت میں ریاستی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دہشت گردوں اورسہولت کاروں کے خلاف فوری ایکشن لے کر اے این پی کے رہنماوں کو تحفظ فراہم کیا جائے، انہوں نے کہا کہ دنیا اس بات کی گواہ ہے کہ دہشت گردی ختم نہیں ہوئی اور یہ دہشت گردی صرف اے این پی کیلئے ہے،انہوں نے کہا کہ حکومت اور ریاست ہمیں اپنی حفاظت خود کرنے پر مجبور کر رہی ہے اگر ایسا ہوا تو حکومت کیلئے ناقابل برداشت ہو جائے گا،میاں افتخار حسین نے کہا کہ حکومت قوم کے سامنے اپنی ناکامی کا اعتراف کرلے تو ہم اپنی حفاظت کیلئے خود میدان میں نکل آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ در حقیقت فوج حکومت کے ساتھ نہیں بلکہ حکومت فوج کے ساتھ ہے اور اسٹیبلشمنٹ کٹھ پتلیوں کو سامنے رکھ کر اپنے فیصلے مسلط کر رہی ہے۔