2019 زرداری نوازشریف کو کچھ ہوا تو ذمہ دار حکومت ہوگی،میاں افتخارحسین

زرداری نوازشریف کو کچھ ہوا تو ذمہ دار حکومت ہوگی،میاں افتخارحسین

زرداری نوازشریف کو کچھ ہوا تو ذمہ دار حکومت ہوگی،میاں افتخارحسین

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے میاں نوازشریف کی بیماری کامذاق اڑانے والے یاد رکھیں کہ وہ صحت مند پاکستان واپس آئے تھے لیکن جیل میں ایسا کیا ہوا کہ حالت تشویشناک حد تک پہنچ گئی۔سابق صدر آصف علی زرداری کی صحت سے متعلق بھی تشویشناک خبریں سامنے آرہی ہیں۔ اگر سیاسی رہنماؤں کو کچھ ہوا تو ذمہ دار موجودہ حکومت ہوگی۔ آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخارحسین کا کہنا تھا کہ ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ نوازشریف اپنی بیوی کو بستر مرگ پر چھوڑ کر پاکستان آئے، جیل میں کیا ہوگیا کہ صحت مند نوازشریف تشویشناک صورتحال میں مبتلا ہوچکے ہیں، ان کی صحت بگاڑنے کی تحقیقات ہونی چاہئیے۔ انہوں نے کہا کہ پاناما میں گرفتاری ہوئی لیکن سزا اقامہ میں ہوئی، اسکا سیدھا سادھا مطلب یہی ہے کہ وہ بے گناہ تھے۔ احتساب کے نام پر ڈرامہ رچایا جارہا ہے اور اپوزیشن کو ڈرایا جارہا ہے۔ وزراء لوگوں کی بیماریوں کا مذاق اڑارہے ہیں، یہ ایسے لوگ ہیں جن کی کوئی سیاسی جدوجہد نہیں، جو حکومت میں ہوتے ہیں انہی کے گُن گاتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی وزراء پہلے مشرف،زرداری، نوازشریف کے قصیدے گاچکے ہیں اور آج کل عمران خان کے قصیدے گارہے ہیں، ان کا کوئی ضمیر ہی نہیں۔انہی وزراء نے کلثوم نواز کی بیماری کا مذاق اڑایا اور آج ایک بار پھر وہی روش دہرائی جارہی ہے، اللہ نہ کرے اگر نوازشریف کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ دار موجودہ حکومت ہوگی۔آصف علی زرداری کی طبعیت بارے بھی تشویشناک خبریں آرہی ہیں جنہیں ذاتی معالج کی سہولت نہیں دی جارہی۔ سندھ کے لیڈر کو پنجاب کے جیل میں رکھ کر سندھیوں کا کیا پیغام دیا جارہا ہے، کیا سندھ پاکستان نہیں؟ میاں افتخارحسین کا کہنا تھا کہ مخالفین کو موت کے ذریعے راستے سے ہٹاناملک کی خدمت نہیں بلکہ ایک خطرناک صورتحال کی جانب ملک کو لے جانے کے مترادف ہے۔جو لوگ یہ کھیل کھیل رہے ہیں وہ بھی خدا کی قہر سے نہیں بچ سکیں گے۔اگر ایک سیاسی لیڈر کو موت کے ذریعے ہٹایا گیا تو ایک نئی تحریک جنم لے گی۔اگر احتساب کرنا ہے تو کیا صرف ن لیگ اور پیپلزپارٹی کا ہوگا؟ خود کی پارٹی میں کرپشن کے بادشاہ بیٹھے ہیں۔ تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس پانچ سال سے موجود ہے جس میں عمران خان سمیت پوری جماعت مجرم ہیں، اگر اس کا فیصلہ آئیگا تو نہ عمران خان رہے گا نہ ہی حکومت۔ وہاں احتساب کا دوسرا پیمانہ اپنایا جارہا ہے۔ جو گرفتار ہوئے ہیں ان میں کسی پر ایک پیسہ کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا خیال تھا کہ شرکاء کے فیصلے پست ہوں گے لیکن نئے قافلے آرہے ہیں،اب ہم نے دبائو مزید بڑھانا ہے، مزید لوگ بھی آئیں گے۔ہمارے مطالبات وہی ہیں جو پہلے دن سے بتاچکے ہیں۔ گذشتہ الیکشن منظور نہیں، موجودہ حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے اور وزیراعظم سلیکٹڈ ہے جو ہمیں کسی بھی صورت قبول نہیں۔اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان، اپنی دھرتی اور اپنے بچوں کے مستقبل کو بچائیں گے۔ دہشت گردوں کے سامنے ہم کھڑے رہے ہیں جس کیلئے بیٹے تک کی قربانی دی۔ میرے حجرے پر حملے کئے گئے جس میں 19سال کے عمر کے دو بچے جاں بحق ہوئے۔ میں نے اپنے بیٹے کے موت پر بھی آنسو نہیں بہائے تاکہ ان کو پیغام دے سکوں کہ ہم ظلم کے خلاف کھڑے رہیں گے۔میاں افتخارحسین کا کہنا تھا کہ ہم آئین کی بالادستی چاہتے ہیں،انسانی حقوق مانگتے ہیں، امتیازی سلوک ہمیں منظور نہیں،اس ملک میں کوئی غلام نہیں بلکہ برابرکے شہری ہیں، ہم اپنے وسائل پر اختیار کی بات کرتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ بھی راستے کھول دیے جائیں، اگر ایک سرحد پر تعلقات بحالی کی بات ہورہی ہیں تو دوسرے سرحد پر بھی یہی سلوک روا رکھا جائے۔افغانستان کیساتھ تجارتی روابط بحال کئے جائیں اور دونوں طرف سے آنیوالے لوگوں کیلئے ویزہ میں نرمی کی جائے۔افغانستان کے مسئلے کو افغان حکومت شامل کیے بغیر حل نہیں کیا جاسکتا۔

شیئر کریں