پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ عمران نیازی کو قوم پر زبردستی مسلط کرنے والی قوتوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے اور پختون قیادت کو سیاسی میدان سے آوٹ کرنے کی سازشیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوشہرہ میں اے این پی کی نو منتخب ضلعی کابینہ کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین ، صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک، اایمل ولی خان ،خوشدل خان ایڈوکیت اور خورشید خٹک سمیت دیگر مرکزی و سوبائی قائدین بھی موجود تھے، قبل ازیں صوبائی صدر نے نو منتخب کابینہ سے حلف لیا اور انہیں کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ نو منتخب صدر اپنی کابینہ سمیت آئین و منشور پر عمل کرتے ہوئے عوامی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے، انہوں نے کہا کہ تنظیم پارٹی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں اور بنیادی طور پر ان پر دو اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جن میں سے ایک عوام میں پارٹی کے نظریے اور سوچ و فکر کیلئے آگاہی پیدا کرنا اور دوسرا عوامی مسائل کے حل کیلئے تگ و دو کرنا ہے۔امیر حیدر خان ہوتی نے تمام پارٹی کارکنوں کو ہدایت کی کہ ضلعی تنظیم کے ساتھ اپنا ہر ممکن تعاون جاری رکھیں،انہوں نے کہا کہ تمام اضلاع وقت مقررہ پر اپنی تنظیم سازی کا عمل مکمل کریں اور یو سی، عیلج کونسل اور تحصیل کی سطھ تک تنظیمی ڈاھنچہ بھی جلد از جلد مکمل کیا جائے،موجودہ سیاسی حالات بارے انہوں نے کہا کہ ملک انتہائی مشکلات میں گھرا ہوا ہے اور مسلط وزیراعظم اپنی شاہ خرچیوں کیلئے مہنگائی کے بم گراتے جا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار کسی دور حکومت کے پہلے سات ماہ میں مہنگائی اس قدر بڑھی ہے ، عوام کی زندگی اجیرن وہ چکی ہے اور کپتان نے غریب آ دمی سے جینے کا حق چھین لیا ہے، انہوں نے کہا کہ سیاسی وابستگی سے قطع نظر اب ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس مہنگائی کے طوفان کے خلاف آواز بلند کریں،انہوں نے کہا کہ نیازی کو اقتدار تک پہنچانے والی قوتوں نے ہمارا حق چھین کر اسے وزیر اعظم تو بنا دیا لیکن ہم سیاسی میدان خالی نہیں چھوڑیں گے اور عوامی حق پر ڈاکہ ڈالنے کی اس روایت کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے،امیر حیدر خان ہوتی نے مزید کہا کہ اے این پی آنے والے بلدیاتی انتخابات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور بلدیاتی الیکشن کیلئے کارکن ابھی سے اپنی تیاریاں شروع کردیں،انہوں نے کہا کہ اپنے حقوق کی جنگ جیتنے کیلئے اتحادواتفاق کی ضرورت ہے اور اتحاد کے بغیر کوئی بھی جدوجہد کامیاب نہیں ہو سکتی۔

میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ اے این پی منظم جمہوری قوت ہے اور نو منتخب کابینہ کو جہاں بھی رہنمائی کی ضرورت ہوئی تعاون کیلءئے تیار ہوں، انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کا سانحی انتہائی دردناک تھا تاہم ایک خاتون وزیر اعظم نے اپنے کردار اور مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی اعلیٰ مثال قائم کر دی ہے ، انہوں نے سانحہ میں شہید ہونے والے ارشد نعیم کو بھی خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ جس بہادری سے انہوں نے دہشت گرد کا مقابلہ کیا وہ قابل تحسین ہے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے حکمران دہشت گردوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مصروف ہیں ،اور میرے بیٹے کے قاتل کو بچانے کیلئے کوششیں کی جا رہی ہیں جو اپنا گناہ قبول کر چکا ہے۔

ایمل ولی خان نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں ہمارے ساتھ جو نا انصافی کی گئی یہ اسی سلسلے کی کڑی ہے جوسلوک 70سال سے ہمارے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قیام کا ایک سال مکمل ہونے سے پہلے خدائی خدمتگاروں کا خون بہایا گیا ،انہوں نے کہا کہ ہم میدان میں موجود رہیں گے اور حقیقی عوامی نمائندگی کا حق کسی کو چھیننے نہیں دیں گے، ایمل خان نے کہا کہ حملوں اور بزدلانہ کارروائیوں سے ہمیں دھمکایا نہیں جا سکتا، پاکستان کے ٹھیکیداروں نے نیازی کو اقتدار پلیٹ میں رکھ کر پیش کر دیا ہے جو اس قوم کی تباہی کیلئے کافی ہے،انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ملک کے ٹھیکیدار ہی ملک کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں اور ایک نا عاقبت اندیش کو اقتدار دے کر کروڑوں لوگوں کی زندگیاں داؤ پر لگا دی گئی ہیں۔