پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ قبائلی اضلاع کی قیمتی معدنیات پر قبضہ کی منظم کوشش جاری ہے اور ان کی لیز پر حصول کیلئے مختلف حربے استعمال کئے جا رہے ہیں ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پختون علاقوں خصوصاٍ قبائلی اضلاع میں اربوں روپے کی قیمتی معدنیات کی موجودگی مخصوص ذہنیت کے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے جبکہ ان پر قبضہ کیلئے مقامی لوگوں کو دھمکیاں بھی مل رہی ہیں،انہوں نے کہا کہ پختون علاقے اربوں روپے کی قیمتی معدنیات سے بھرے پڑے ہیں تاہم بدقسمتی سے دہشت گردی کی نہ ختم ہونے والی لہر کے باعث پختونوں کی ترقی کیلئے ان خزانوں کو استعمال نہیں کیا جا سکا ، ایمل ولی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے ان قیمتی معدنیات پر قبضہ کرنے والوں کیلئے راہیں ہموار کر دی ہیں ، انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کے پختون باشعور ہیں اور وہ کسی طرح بھی غیروں کو ان قیمتی خزانوں پر قابض نہیں ہونے دیں گے،انہوں نے کہا کہ قدرتی وسائل سے مالامال ان علاقوں میں اٹھارہ گھنٹوں سے زائد لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے جبکہ حکومت قبائلی علاقوں میں ترقی کے برائے نام دعوے کر رہی ہے،اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو وہ اربوں روپے کی پیداواری معدنیات کے قبائلی علاقوں میں کارخانے لگائے تاکہ خام مال کی مقامی جگہ پر استعمال کے ساتھ قبائلی علاقوں کے عوام کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے ،انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کی قیمتی معدنیات علاقے کی ترقی کیلئے استعمال میں لانے کیلئے مقامی لوگوں پر فیصلے ٹھونسنے کی بجائے ان کی رضامندی اور مشاورت کے ساتھ فیصلے علاقے اور صوبے کے بہتر مفاد میں ہونگے ، انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کے راستے افغانستان کے ساتھ تمام تجارتی راستے کھولنے سے برآمدات میں اضافہ اور بے روزگاری ختم کرنے میں مدد ملے گی، ایمل ولی نے کہا کہ امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال افسوسناک ہے اور اس سے نمٹنے کیلئے حکومت کو سنجیدہ اور عملی اقدامات اٹھانے ہونگے ، انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے لوگوں نے بے پناہ نقصانات اٹھائے ہیں اور مزید نقصانات کے متحمل نہیں ہو سکتے ، انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں قیمتی معدنیات پر قبضے کی کوشش کا مقابلہ اے این پی پر فورم پر کرتی رہے گی اور قبائلی عوام کے حق کیلئے ہر حد تک جانے کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں قیمتی معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل اور ذرائع کیلئے پالیسی بناتے وقت قبائلی جات کے عوام کے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنا ہوںگے۔