پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی روز اول سے عدم تشدد پر عمل پیرا رہی ہے لیکن بحیثیت پشتون اگر ہمارے بچوں پر تشدد ہوگا تو اس کا جواب دینے کا حق رکھتے ہیں۔ زرعی یونیورسٹی پشاور کے جنرل سیکرٹری اچک اچکزئی پر حکمران جماعت کے غنڈہ گردوں نے تشدد کیا لیکن مثالی پولیس اور انتظامیہ ابھی تک ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہ لاسکی۔ اسلام آباد میں اچک اچکزئی کی عیادت کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ موجودہ حکومت تعلیمی داروں میں تشدد کے ماحول کو پروان چڑھارہی ہے، اے این پی اور تمام ذیلی تنظیمیں عدم تشدد کے فلسفے پر نہ صرف یقین رکھتی ہے بلکہ روز اول سے اسی پر عمل پیرا ہیںلیکن بدقسمتی سے ہمیں کسی اور اقدام اٹھانے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ اچک اچکزئی پر تشدد کرنیوالے حکومتی جماعت کے غنڈے تھے جنکے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہیںہوئی، شاید حکومت دبائو ڈال کر اس معاملے کو ختم کرنا چاہتی ہے لیکن ہم واضح طور پر بتانا چاہتے ہیں کہ ہم پشتون ہیں اور پشتون کے ساتھ ہر قسم کا راستہ موجود ہے، بحیثیت ایک سیاسی و جمہوری جماعت ہم کوئی بھی انتہائی قدم نہیں اٹھائیں گے لیکن اگر پولیس اور انتظامیہ اپنا کردار نہیں نبھائیں گے تو اے این پی جلد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔ اس موقع پر انہوں نے تمام ذیلی تنظیموں ملگری ڈاکٹران،ملگری وکیلان،پی ایس ایف اراکین، این وائی او سمیت پارٹی قیادت و کارکنان کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اچک اچکزئی کی تیمارداری کی اور سخت حالات میں ان کے ساتھ کھڑے رہے۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ مثالی پولیس کی کارکردگی بھی سب کے سامنے عیاں ہوچکی ہے کیونکہ اچک اچکزئی پر حملہ کرنیوالے ملزمان اب بھی کھلے عام پھررہے ہیں لیکن حکومتی دبائو کی وجہ سے ان کے خلاف کوئی کاررورائی نہیں ہورہی۔ انہوں نے ایک بار متنبہ کیا کہ ملزمان کو جلد سے جلد گرفتار کیا جائے اور ہمیں انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور نہ کی جائے۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ پی ایس ایف ایک منظم اور غیرمتشدد تنظیم ہے جس نے ہمیشہ طلبہ حقوق کی جنگ لڑی ہے اور اس جنگ میں وہ ہر محاذ پر صف اول میں کھڑے نظر آئیں گے۔