پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے قرض کے حصول کیلئے آئی ایم ایف کی شرائط پر قوم کو اندھیرے میں رکھا جارہا ہے جس سے ہر طبقے میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، حکومت معاہدے کے تحت جن طبقات پر مزید بوجھ ڈالنے جارہی ہے کم از کم انہیں تو اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔
آئی ایم ایف سے6ارب ڈالر قرض کے معاہدے پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ واضح ہو گیا ہے کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ آئی ایم ایف کا تیار کردہ ہوگا جس کی وجہ سے ریلیف کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے چند ارب ڈالر کے لیے ملک کو آئی ایم ایف کے ہاتھوں گروی رکھ دیاہے، حکومت معاہدے کو پارلیمنٹ میں لے کر آئی نہ اس پر کسی سے مشاورت کی ، حکومت اپنے رویے سے پارلیمنٹ کو بے توقیر کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ معیشت کو سنبھالا دینے کی جو ناکام کوشش کی جا رہی ہے اس سے مرض کم ہونے کی بجائے مزید بڑھے گا اور ملک بھر کے عوام اس کے منفی اثرات سے بچ نہیں پائیں گے،انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بنک،وزارت خزانہ اور ایف بی آر آئی ایم ایف کے نرغے میں ہے، نئے قرضوں کے حصول سےغریب عوام پر ناقابل برداشت بوجھ میں مزید اضافہ ہوگا، قوم اس وزیر اعظم کی تلاش میں ہے جو خودکشی کو آئی ایم ایف پر ترجیح دینے کے دعوے کرتا تھا، سردار حسین بابک نے کہا کہ کنٹینر پر تقریریں اور حکومت چلانے میں بہت فرق ہے، عمران نیازی کو مسلط کرنے والے بھی ندامت کے باعث قوم کا سامنا نہیں کر سکتے، انہوں نے کہا کہ پاکستان اقتصادی اعتبار سے انتہائی مشکل دور سے گزر رہاہے ،قومی شرح نمو 9سال کی پست ترین سطح 3.29 فیصد پر آگئی ہے ، آئی ایم ایف شرائط ، قرضوں اور سود کا بوجھ ، پیداواری لاگت میں ہوشربا اضافہ شرح نمو کو بڑھنے نہیں دے گا، غریب عوام پر ناقابل برداشت بوجھ میں مزید اضافہ ہوگا ، عمران خان کی تبدیلی عوام کے لیے خوفناک خواب بن گئی ہے۔
سردار حسین بابک نے کہا کہ حکمرانوں کی نااہلی سے ملک عملًا آئی ایم ایف کاغلام بن چکاہے، آئی ایم ایف ملک کی معاشی پالیسیاں بنارہا ہے جبکہ سلیکٹڈ حکمرانوں کے پاس کوئی اختیار نہیں رہا، مہنگائی کے خلاف عوام کے میدان میں نکلنے کاوقت آچکا ہے، آئی ایم ایف کے قرضوں سے ملک ہمیشہ دیوالیہ ہوا،حکمراناپنی عیاشیوں کا بوجھ مہنگائی کی صورت میںعوام پر ڈال رہے ہیں اور ہر چیز پر سبسڈی ختم کی جارہی ہے، انہوں نے کہا کہ ترقی اورخوشحالی کی وعدوں پر حکمران طبقہ نے یوٹرن لیا جس کی وجہ غریب عوام پریشان ہیں اور دو وقت کی روٹی کیلئے ترس رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ کپتان کی تبدیلی سے مراد یوٹرن تھا اور یوٹرن کاوعدہ پوراکرکے دکھایا۔