پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ملک تباہی کے دہانے پر ہے اور نا اہل حکومت کی مزید معمولی سے غلطی بڑی تباہی کا سبب بن سکتی ہے، موجودہ معاشی صورتحال، مہنگائی کے طوفان اور بے روزگاری میں اضافے کے بعد عوام میں لاوا پک رہا ہے، ان خیالا کا اظہار انہوں نے ضلع مہمند کے حلقہ پی کے103 کی انتخابی مہم کے سلسلے میں مچنی شبقدر میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ قبائلی انتخابات کا انعقاد غیر جانبدارانہ اور شفاف بنایا جائے اور مداخلت کے عنصر کا خاتمہ کیا جائے، انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال انجینئرڈ الیکشن کے نتیجے میں عوام میں احساس محرومی پیدا ہوا، نتائج تبدیل کر کے چور دروازے سے سلیکٹڈ شخص کو لایا گیا،انہوں نے کہا کہ اب مزید فریب عوام برداشت نہیں کریں گے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کے اتحاد پر پراپیگنڈا کرتی رہی لیکن انہوں نے دیکھ لیا کہ تمام اپوزیشن ایک پیج پر متفق ہے، چیئرمین سینیٹ کے بارے میں حکومت کی خوش فہمی بھی دور کر دی گئی ہے جبکہ25جولائی کو حکومت مخالف تحریک کا متفقہ فیصلہ بھی رہبر کمیٹی نے ہی کیا ہے، انہوں نے کہا کہ 25جولائی سے تمام صوبوں میں حکومت مخالف تحریک کا آغاز کیا جائے گا جو سلیکٹڈ حکومت کی سیاسی کشتی میں سوراخ کر دے گی، انہوں نے کہا کہ عوام نے گزشتہ روز کی ہڑتال میں اپنا فیصلہ سنا دیا ہے، حکومت غلط فہمی میں نہ رہے ہڑتال کا فیصلہ اپوزیشن نے نہیں بلکہ خود تاجروں نے کیا تھا، انہوں نے کہا کہ تاجر برادری سمیت عوام کا غصہ اپنے عروج پر ہے اور اب معمولی سی غلطی ملک میں آگ لگا سکتی ہے،انہوں نے کہا کہ حکومت کو خود ہی اقتدار سے الگ ہو جانا چاہئے،انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ارادوں اور مفادات کی خاطر سلیکٹڈ نا اہل نے ملک کی بنیادیں ہلا دیں،کاروبار زندگی مفلوج ہو چکا ہے،کارخانے بند ہیں اور سرمایہ کار اپنا سرمایہ ملک سے نکال رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ ملک کو بچانے کیلئے منتخب نمائندوں کو اقتدار حوالے کیا جانا ضروری ہے لہٰذا ملک میں جلد از جلد نئے منصفانہ انتخابات کرا کے اقتدار عوامی نمائندوں کو دیا جائے، ججز ویڈیو کے حوالے سے میاں افتخار حسین نے کہا کہ متنازعہ جج کے فیصلے کس طرح منصفانہ ہو سکتے ہیں ان تمام فیصلوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے اس میں کئی شک و شبہ نہیں کہ عدلیہ کو ذاتی مفادات کیلئے استعمال کیا گیا،انہوں نے کہا کہ ارشد ملک کی ویڈیو صرف تریلر ہے اس جیسے کئی اور سکینڈل ہیں اور اس بات کا ثبوت ہیں کہ سب کچھ پری پلان تھا، انہوں نے کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات ہونی چاہئے، میڈیا پر بندشوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں میڈیا آزاد ہو تا ہے جبکہ موجودہ دور میں صحافیوں کا گلہ گھونٹ دیا گیا ہے، تمام صحافی چیخ چیخ کر اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ ہمیں بولنے نہیں دیا جاتا، ملک میں عملاً سول مارشل لاء نافذ ہے،انہوں نے کہا کہ ملک میں تمام ادارے تباہ کر دیئے گئے نیب سے لے کو احتساب عدالت تک انصاف نام کی کوئی چیز نہیں،انہوں نے کہا کہ 73کے آئین کی بالادستی کے بغیر ملک نہیں چل سکتا،پارلیمنٹ سپریم ہے اور تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہئے، انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں اے این پی کی کامیابی یقینی ہے،حکومت اپنے امیدواروں کیلئے سرکاری مشینری استعمال کر رہی ہے لیکن قبائلی عوام دھوکے میں آنے والے نہیں، انہوں نے کہا کہ الیکشن میں کامیابی کے بعد اے این پی قبائل کی محرومیوں کے خاتمے کیلئے جامع منصوبہ بندی کرے گی۔