پشاور( پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و ڈپٹی اپوزیشن لیڈر سردارحسین بابک نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت بجلی و گیس کی قیمتوں میں آئے روز اضافے کے مسئلے کو مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں اٹھائے۔ صوبے کے غریب عوام بجلی کی ناروا قیمتوں کو برداشت کرنے سے قاصر ہیں، صوبے میں پانی سے بجلی پیداہونے کا کیا فائدہ پہنچ رہا ہے؟صوبائی حکومت مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس سے صوبے کے نمائندہ مسائل کو اجاگر کرنے میں کس قدر کامیاب رہا ہے، اسمبلی کو آگاہ کیا جائے۔صوبائی حکومت بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے لئے گئے قرضوں کی تفصیلات صوبے کے عوام کے سامنے رکھی جائیں۔ یہ قرضہ صوبے کے عوام نے واپس کرنا ہے، حکومت بند کمروں میں سولو فلائٹ سے فیصلے کرتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا حکومت اسمبلی کو آگاہ کرے کہ پچھلے سات سالوں میں بیرونی و اندرونی طور پر کتنا قرضہ لیا گیا ہے اور کن کن منصوبوں میں استعمال ہورہا ہے۔ بیرونی قرضوں سے شروع ہونے والے سیاحت اور سڑکوں کی تعمیر کے منصوبوں میں صوبے کے عوام کی ضرورت اور پسماندگی کو مدنظر رکھنا ناگزیر ہے۔ سردارحسین بابک کا کہنا تھا کہ قرضوں کا بوجھ صوبے کے عوام پر یکساں پڑرہا ہے لہٰذا قرضوں سے شروع ہونیوالے منصوبوں میں صوبے کے عظیم تر مفاد میں اسمبلی میں موجودتمام پارلیمانی لیڈرز کو اعتماد میں لینا اور انکی مشاورت سے شروع کردہ منصوبے صوب اور عوام کے مفاد میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو سی سی آئی اجلاس میں تیاری کے ساتھ جانا چاہیے، صوبے کے بجلی کے خالص منافع کا مسئلہ روز بروز تاخیر کا شکار ہورہا ہے، صوبائی حکومت کو بجلی کے خالص منافع کا کیس صوبے کانمائندہ بن کے جانا چاہیے نا کہ پی ٹی آئی کا نمائندہ بن کے۔ اصوبائی حکومت کو ہمارے صوبے کے پیداوار گیس کو صوبے کے تمام اضلاع تک پہنچانے کیلئے سی سی آئی میں لڑنا ہوگا۔ ہمارے صوبے کی گیس پر ملک کے دوسرے حصوں میں ہزاروں کارخانے چل رہے ہیں جبکہ ہمارے گھریلو استعمال کیلئے ہمیں گیس نہیں دی جارہی۔