پشاور ( پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسن نے کہا ہے کہ جمہوریت کی بقاکیلئے موجودہ حکومت کاخاتمہ ناگزیر ہے، مولانافضل لرحمان کے دھرنے سے حکومتی ایوانوں میں زلزلہ آچکاہے جس کے اثرات سپریم کورٹ کے فیصلے کی شکل میں آچکاہے،یہ حکومت تین ماہ کی مہمان ہے،جلد عوام کوموجودہ سلیکٹڈ حکومت چھٹکارامل جائے گا عوام کوموجودہ حکومت کسی صورت برداشت نہیں،نوشہرہ میں متحدہ اپوزیشن کے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخارحسین نے کہا کہ موجودہ نااہل اورجاہل حکومت آئین اورقانون کی الف ب تک سے واقف نہیں، رہبرکمیٹی اور متحدہ اپوزیشن کے صرف چارنکات ہیں جس کا ہم ایک بار پھر اعادہ کرتے ہیں، سلیکٹڈوزیراعظم کااستعفی، ملک میں دوبارہ انتخابات،قانون اور آئین کی بالادستی اور فوج کی مداخلت کے بغیر الیکشن کمیشن کی زیرنگرانی انتخابات۔ ان مطالبات کے حصول تک جدوجہد جاری رہیگی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اورجمہوریت ایک ساتھ کسی صورت نہیں چل سکتے،ہم جمہوریت کوبچانے نکلے ہیں اور جمہوریت کونااہل حکمرانوں سے آزادکرکے دم لیں گے۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان وزیراعظم کی کرسی پر براجمان ہوتے ہوئے بھی کنٹنیروالی زبان استعمال کرکے پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ کوگالیاں دے رہاہے۔ میاں افتخارحسین کا کہنا تھا کہ عمران خان پوری دنیامیں پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف بھارت کشمیر میں کشمیریوں پر ظلم کررہا ہے،دوسری طرف سکھوں کے کرتارپور راہداری کھول دی گئی ہے۔ ہم کرتارپور کو خوش آئند اقدام سمجھتے ہیں لیکن افغانستان کے ساتھ راستوں پر مشکلات پیدا کی جارہی ہیں، جس سے سارا نقصان پشتونوں کا ہی ہورہا ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ24گھنٹے طورخم بارڈر کھولنے کے اعلان پر فوری طور پر علمدرآمد کی جائے کیونکہ اس حکومت نے اعلانات بہت کئے،عملی اقدامات صفر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سلیکٹڈ حکومت کے دن گنے جاچکے ہیں اور عوام کو جلد خوشخبری سنائیں گے