عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نیڈاکٹر عبدالصمد کی گرفتاری پر حکومتی ایوانوں میں ہلچل پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے وزراء، وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم نیب کی طرف سے صوبے کے افسر کی گرفتاری کے پیچھے محرکات کو سامنے لانا چاہئے، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پشاور میوزیم سے کروڑوں روپے کے قیمتی نوادرات کیسے غائب کئے گئے ہیں، نیب کی کاروائیوں پر داد دینے والے اب نیب کی کارروائی پر سیخ پا ہو رہے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے، انہوں نے کہا کہ حکمران جماعت کے اوپر سے نیچے تک وزراء ایک افسر کی گرفتاری پر بوکھلاہٹ کا شکار ہیں،سردار حسین بابک نے کہا کہ نیب کو بھی اس حوالے سے وضاحت کرنی چاہئے کہ صوبے کے افسر کی گرفتاری کے تانے بانے کہاں سے جا ملتے ہیں اور گزشتہ پانچ سال کے دوران محکمہ کی تحویل میں موجود کروڑوں روپے کے نوادرات کی گمشدگی کا اصل معاملہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ نیب کی طرف سے غیر جانبدارانہ، آزادانہ اور بلا امتیاز احتسابی عمل شروع کر کے ہی کرپشن کا خاتمہ ممکن ہے،انہوں نے کہا کہ ملک میں اداروں کی آزادانہ حیثیت کی بحالی تک کرپشن کا خاتمہ اور احتسابی عمل کا کامیابی ممکن نہیں ، انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومتیں اپنے مخالفین کو ہراساں اور بدنام کرنے کو احتساب اور اپنی حکومت کے خلاف کاروائی کو شرمناک قرار دے رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ اے این پی کا ہمیشہ سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ پی ٹی آئی کے پچھلے پانچ سالہ دور حکومت اختیارات کا ناجائز استعمال اور اربوں روپے کی کرپشن کی داستانیں عام لوگوں کی زبان پر ہیں، انہوں نے کہا کہ نیب غیر جانبدارانہ اور شفاف احتسابی عمل کو یقینی بنائے تاکہ ملک کرپشن کے ناسور سے پاک ہو سکے، انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اپنی باری پر چیخ رہی ہے اگر نیب نے حقیقی معنوں میں پی ٹی آئی کی کرپشن پا ہاتھ ڈالا تو حکمران جیلوں میں ہونگے، انہوں نے کہا کہ نیب کو صوبے میں بڑے کرپشن سکینڈل کے تمام کرداروں کو واضح کرنا چاہئے تاکہ اصل کرداروں تک پہنچے میں آسانی پیدا ہو سکے اور اس میں کنفیوژن ختم ہو اور پی ٹی آئی کے حکمران دباؤ ڈال کر اصل حقائق سے توجہ ہٹانے میں لگے ہوئے ہیں۔