پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر من وعن عمل کئے بغیر دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں ، جسٹس محمد ایوب مروت پر بزدلانہ حملہ قابل مذمت ہے ،سیکورٹی ایجنسیاں غیر معمولی حالات میں الرٹ رہیں،گزشتہ شب حیات آباد پشاور میں پشاور ہائیکورٹ کے جج جسٹس محمد ایوب مروت پر قاتلانہ حملے کے بعد جائے وقوعہ کے دورے کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ جسٹس ایون مروت پر حملہ قابل مذمت ہے اور واقعے کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے ، انہوں نے کہا کہ سرحدوں پر موجودہ کشیدہ صورتحال کے باعث سیکورٹی ایجنسیوں کی مصروفیات کے باعث دہشت گردسافٹ ٹارگٹ کی تلاش میں ہیں اور وہ اس صورتحال میں اپنی کاروائیوں سے دہشت اور وحشت کی فضا قائم کرناچاتے ہیں ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ نہیں ہوا اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب مصلحتوں سے قطع نظر نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے،انہوں نے کہا کہ ملک میں بد امنی کی صورتحال بڑھتی جا رہی ہے،جس ملک میں انصاف اور فیصلے کرنے والے جج محفوظ نہیں وہاں عام شہری کیسے محفوظ رہ سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ ملکوں کے درمیان اور سرحدات پر صورتحال کشیدہ ہوتی رہتی ہیں تاہم ملک کے اندرونی معاملات پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ حکومت ایسے واقعات کی روک تھام کرے اور جسٹس ایوب مروت پر حملے کی جو ڈیشل انکوائری کر کے ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچائے ، انہوں نے بعد ازاں واقعے میں زخمی ہونے والے جج کی عیادت بھی کی اور ان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی۔