پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا کہ افغان امن مذاکرات کی ناکامی ایک نئی جنگ کو دعوت دینے کے مترادف ہو گا، خطہ ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں مومعلی سی غلطی بڑی تباہی کا باعث بن سکتی ہے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے تاروجبہ میں ایک نجی سکول میں ختم القرآن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے اس موقع پر قرآن و احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے امن کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ دین اسلام کا دوسرا نام امن ہے اور بدامنی کے خاتمے کیلئے ہم سب کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا، انہوں نے امن کے قیام کیلئے میانہ روی کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ انتہاپسندی سے قطع نظر میانہ روی اختیار کر کے امن کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکتا ہے ،میاں افتخار حسین نے کہا کہ اسلام کو اپنے ذاتی مقاصد کیلئے استعمال کرنے والے گھاٹے کا سودا کر رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ باچا خان نے ہمیشہ انسانیت کی خدمت کا درس دیا اور کہا کہ خدا کی مخلوق کی خدمت صرف خدا کی رضا کیلئے ہونی چاہئے ، انہوں نے کہا کہ صبر کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے اللہ ہمیشہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے، انہوں نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ صبر کا عملی نمونہ تھے جنہوں نے زیادتیاں کرنے والوں کو کبھی بد دعا نہیں دی ،انہوں نے آنے والی نسلوں کو اپنے پیغام میں کہا کہ نفرت ، بغض، کینہ چھوڑ کر امن و آشتی کا دامن تھامے رکھیں کیونکہ یہی بقا کا ذریعہ ہے، افغان امن مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس میں افغان حکومت اصل فریق ہے جسے مذاکراتی عمل میں شامل نہیں کیا جا رہا ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ خطہ ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں معمولی سی غلطی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، انہوں نے دعا کی کہ قوم کی حالت بہتر بنانے کیلئے اللہ تعالی عوام کے حقیقی خیر خواہوں کو اقتدار میں لائے ۔