پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ قبائلی امور میں اختیارات کی جنگ جاری ہے اور کرپشن کے مال پر وزیر اعظم ، وزیر اعلیٰ اور گورنر خیبر پختونخوا مشت و گریبان ہیں،پشاور میں قبائلی اضلاع کی کل جماعتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹرانسفر اور پوسٹنگ کیلئے اربوں روپے کی بندربانٹ نے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے ،لیویز ایکٹ ایف سی آر کی نئی شکل ہے لہٰذا حکومت کرپشن کے مال کی تقسیم پر الجھنے سے گریز کرے اور قبائل سے متعلق نظام وضع کرے ، انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام کے باہمی اتحاد اتفاق سے فاٹا کا صوبے میں انضمام ممکن ہوا اور مستقبل اسی اتحاد کا متقاضی ہے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ مردام شماری میں پختونوں خصوصاً قبائل کے ساتھ زیادتی کی گئی ،ملک میں وسائل کی تقسیم آبادی اور غربت کی بنیاد پر ہوتی ہے جبکہ مردم شماری میں آبادی کم ظاہر کے وسائل پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی گئی ، انہوں نے کہا کہ وفاق پختونوں کے ساتھ امتیازی سلوک میں ناقابل بدراشت حد تک جا چکا ہے، انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں الیکشن ہونے جا رہے ہیں لیکن حلقہ بندیاں پہلے سے ہی متنازعہ کر دی گئی ہیں اور ان کی تعداد 24سے کم کر دی گئی ہے، انہوں نے قبائلی مشران کو آگاہ کیا کہ الیکشن کی تیاریوں کے ساتھ ساتھ اپنے جائز مطالبات کیلئے جدوجہد بھی جاری رکھیں، انہوں نے سی پیک کا خصوصی ذکر کیا اور کہا کہ اکنامک کوریڈور در حقیقت آصف زرداری کے دور میں ممکن ہوا جبکہ بعد ازاں نواز شریف کی حکومت میں اسے مختلف حصوں میں تقسیم کر کے مشرقی و مغربی روٹ بنا دیا گیا جس کا کوئی تصور نہیں تھا ، انہوں نے کہا کہ اے این پی کے قائد اسفندیار ولی خان کی چینی سفیر سے ملاقات میں یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ سی پیک میں خیبر پختونخوا کو ترجیحی بنیاد پر شامل کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اکنامک کوریڈور کو اس کی اصل روح کے مطابق تعمیر کرے،اور خیبر پختونخوا سمیت قبائلی اضلاع تک اس کے ثمرات پہنچائے جائیں، انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم اے این پی کا عظیم کارنامہ ہے اور اسی ترمیم کے ذریعے ہم نے صوبائی خود مختاری حاصل کی، میاں افتخار حسین نے کہا کہ وفاق این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کا اس کا جائز حق دے اور انضمام کے بعد قبائل کیلئے تین فیصد کے علاوہ خصوصی پیکج کا اعلان کرے،انہوں نے کہا کہ ملک میں تمام فیصلے اس وقت سٹیبلشمنٹ کر رہی ہے لہٰذا اسٹیبلشمنٹ سے مطالبہ ہے کہ وہ پختونوں اور قبائلی عوام کا معاشی قتل عام بند کر کے ان کے جائز حقوق دے۔