پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا کہ حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے اور ملک کو سنگین خطرات کا سامنا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان ٹرسٹ کے زیر اہتمام پشتون قومی تحریک کے بانی رکن قاضی عطاء اللہ کی برسی اور مادری زبانوں کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ مشترکہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، تقریب کی صدارت شمس بونیری نے کی جبکہ نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کے سابق رہنما قریش گل ایڈوکیٹ نے پروگرام میں خصوصی شرکت کی،اس موقع پر قاضی عطاء اللہ پر قریش گل ایڈوکیٹ کی کتاب کی رونمائی کی گئی اور میاں افتخار حسین نے اس کاوش پر انہیں باچا خان ٹرسٹ کی جانب سے ایوارڈ سے بھی نوازا، مقررین نے قاضی عطاء اللہ کی زندگی و جدوجہد اور مادری زبانوں کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ، میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ خیبر پختونخوا میں تعلیم کے فروغ کیلئے مرحوم قاضی عطاء اللہ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ، صوبے کو پہلی تعلیمی پالیسی دینے کا سہرا انہی کے سر جاتا ہے،انہوں نے پختون قومی تحریک کے ہیرو کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ پشتو زبان کو نصاب کا حصہ بنانے میں قاضی عطاء اللہ کا کردار انتہائی مثالی رہا اور آخری دم تک پختون قومی تحریک سے وابستہ رہے جبکہ مرحوم کو حالت مرگ میں ہونے کے باوجود انتقال سے دو روز قبل جیل سے رہائی ملی،مادری زبانوں کے عالمی دن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جب آپ پشتو زبان کو نظر انداز کریں گے تو مادری زبان خود بخود پیچھے جائے گی،ہماری ثقافت اور زبان کی دھجیاں اسلام کے نام پر اڑائی گئیں لیکن کسی میں جرات نہیں تھی اسلام کے مقدس نام پر کاروبار کرنے والوں کا سامنا کر سکتا، انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جو جنگ لڑی اس کے نتیجے میں خیبر پختونخوا میں امن قائم ہوا اور ہم نے زبان اور ثقافت کو دوبارہ زندہ کیا، انہوں نے کہا کہ امن کے دشمنوں کو شکست دے کر اے این پی نے فنکاروں اور ادیبوں کو اعزازات سے نوازا تاکہ ثقافت کو نئی زندگی دی جا سکے، مادری زبانوں سے متعلق ایک اہم نقطہ یہ ہے کہ دُنیا بھر کے تمام قدیم اور جدید دور کے ماہرین تعلیم ، دانشور ، فلاسفر اس بات پر متفق ہیں کہ معصوم بچوں کو ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دینا ضروری ہے کیونکہ دُنیا بھر میں ترقی یافتہ ملکوں کی ترقی اور سائنسی استعدادکا راز اسی حقیقت میں مضمر ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ 21 فروری کو مادری زبانوں کے دن کے طور پر منانا ایک اچھی روایت ہے تاہم اب اس سے آگے بڑھنے کا وقت آگیا ہے اور اسے ایک تحریک کی شکل دینا ضروری ہو چکا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اے این پی کے دور حکومت میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے مادری زبانوں کے حوالے سے آئینی حقوق محفوظ کر دیئے گئے ہیں،ریجنل لینگویجز اتھارٹی کے قیام کا بنیادی مقصد علاقائی زبانوں کو تحفظ فراہم کرنا تھا لہٰذا اے این پی صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ ریجنل لینگویجز اتھارٹی کو مزید فعال کیا جائے کیونکہ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ خیبر پختونخوا پر مسلط حکومت اصل معنوں میں علاقائی زبانوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ادبی تنظیمیں اٹھارویں ترمیم میں مادری زبانوں کیلئے کی گئی قانون سازی کو عملی بنانے کیلئے آگے بڑھیں، اے این پی کی صوبائی حکومت نے پشتو کو پرائمری درجوں میں ذریعہ تعلیم قرار دیااور اُن علاقوں میں جہاں پشتو مادری زبان تھی ابتدائی جماعتوں کیلئے پشتو میں نصاب تیار کیا اور ساتھ ساتھ بارہویں جماعت تک ہندکو ،کھوار،سرائیکی اور کوہستانی زبان کو بھی لازمی قرار دیا گیا تھا لیکن ایک مخصوص مائنڈ سیٹ نے اس منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔