پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی الیکشن کمیشن کے چیئرمین سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ پختونوں کے صبر کا مزید امتحان نہ لیا جائے اور آئینی حقوق کیلئے جس سمت کا تعین کر دیا گیا ہے حکومت اس کا احترام یقینی بنائے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے لکی مروت اور بنوں کے تنظیمی دوروں کے موقع پر تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر لکی مروت کیلئے تنظیم سازی کا عمل مکمل کیا گیا جس میں صدر الدین مروت کو ضلعی صدر اور فرمان اللہ کو جنرل سیکرٹری منتخب کر لیا گیا اسی طرح بنوں میں تنظیمی اجلاس منعقد ہوا جس میں تیمور باز بلا مقابلہ ضلعی صدر اور نیاز علی خان سمیت دیگر کابینہ بلا مقابلہ منتخب کر لی گئی ، اس موقع پر ضلعی الیکشن کمیٹیوں کے ممبران بھی موجود تھے ، سردار حسین بابک نے اپنے خطاب میں نئی تنظیموں کو مبارکباد پیش کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ ضلعی نو منتخب کابینہ آئین و پارٹی پالیسی پر عمل پیرا ہو کر اپنی ذمہ داریاں بطور احسن انجام دیں گے، انہوں نے کہا کہ اے این پی میں تنظیم سازی کا عمل ہر چار سال بعد جمہوری انداز میں طے پاتا ہے اور یہ دیگر سیاسی جماعتوں کیلئے مثال ہے، صوبے کی مجموعی سیاسی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام موجودہ حکومت کے دور میں پسماندگی کے ساتھ ساتھ ذہنی کرب میں بھی مبتلا ہیں اور مہنگائی نے عوام سے جینے کا حق چھین لیا ہے ، انہوں نے کہا کہ جب حکومتیں عوامی مینڈیٹ کی بجائے زبردستی عوام پر مسلط کی جاتی ہیں تو اس کے نتائج انتہائی بھیانک ہوتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ملک میں سول مارشل لاء نافذ ہے اور نا تجربہ کار لوگ صوبے کو تجربہ گاہ کے طور پر چلا رہے ہیں، انہوں نے ذرائع آمدورفت کی کمی کے حوالے سے کہا کہ پشاور تا کراچی موٹر وے کی تعمیر انتہائی اہم مسئلہ ہے جس پر حکومت کو فوری عمل درآمد یقینی بنانا چاہئے ، سردار بابک نے کہا کہ موٹر وے ملک کی تجارت کا بڑا ذریعہ ہے اور اسے مزید ترقی دینے کیلئے ذرائع آمدورفت کی کمی آڑے آ رہی ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکمران غیر سنجیدگی سے نکل کر عوامی مسائل اور ضروریات کا ادراک کریں اور پختونوں کو درپیش مسائل و مشکلات کے ازالے کیلئے توانائیاں صرف کی جائیں،انہوں نے خبر دار کیا کہ جب کسی قوم میں احساس محرومی انتہا کو پہنچ جائے تو اس کا رد عمل خطرناک ہوتا ہے،انہوں نے کہا کہ اے این پی نے پختونوں کیلئے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبائی خود مختاری حاصل کی جو آج کے حکمرانوں کی آنکھ میں کھٹک رہی ہے، سردار حسین بابک نے قبائلی اضلاع کے مسائل کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پچاس لاکھ گھر بنانے کے دعوے اپنی جگہ حکومت بتائے قبائل میں تباہ ہونے والے انفراسٹرکچر اور ذاتی املاک کی تعمیر کیلئے کیا منصوبہ بندی کی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ لاکھوں قبائلیوں نے امن کی خاطر اپنے جان و مال کی قربانی دی لیکن بدقسمتی سے وہ آج تک در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں تباہ ہونے والی املاک کی آباد کاری کر کے قبائلیوں کی باعزت واپسی یقینی بنائے ۔