عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی الیکشن کمیشن کے چیئرمین سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے والے عاقبت نا اندیش پارلیمان کی جمہوری علامات کو ملیا میٹ کرنا چاہتے ہیں ، آمریت کے لبادے میں موجود حکمران ملک میں پارلیمانی نظام کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں اور کٹھ پتلی کی طرح اشاروں پر خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز بونیر میں ضلعی کابینہ کے انتخابی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر صوبائی و ضلعی الیکشن کمیشن کے ممبران سمیت بونیر کی ضلعی کونسل کے تمام کونسران نے بھرپور شرکت کی ، اجلاس میں باہمی اتفاق رائے سے محمد کریم بابک پانچویں بار ضلعی صدر اور شجاعت علی خان عرف شجاع خان جنرل سیکرٹری منتخب کر لئے گئے ، جبکہ ضلعی صدر و جنرل سیکرٹری سمیت دیگر تمام کابینہ بھی بلا مقابلہ منتخب کر لی گئی، سردار حسین بابک نے نو منتخب صدر اور ان کی کابینہ کو بلا مقابلہ انتخاب پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اے این پی جمہوری سیاسی جماعت ہے اور اس میں ہر چار سال بعد انتخابی عمل بحسن خوبی انجام پاتا ہے ، انہوں نے کہا کہ نئی کابینہ اپنی تمام تر ذمہ داریاں باچا خان کا سپاہی ہونے کے ناطے پارٹی آئین و ڈسپلن کے مطابق انجام دیں اور ضلع میں پارٹی کی مزید فعالیت کیلئے دن رات کام کریں ، انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ملک پر ایسے حکمران مسلط ہیں جو جمہوریت کے نام پر سول آمریت کا کردار ادا کر رہے ہیں، پارلیمانی نظام کے خلاف سازشوں کی کڑی کے طور پر وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی ، گورنر اور وزیر اعلیٰ ہاؤسز کو ختم کرنے کی باتیں کرنے والے کسی طور عوام کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے ، سردار حسین بابک نے کہا کہ اے این پی صدارتی نظام کی بھرپور مخالفت کرے گی اور اس کے ساتھ ساتھ اٹھارویں ترمیم کی حفاظت کیلئے کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیار رہیں گے، انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں مہنگائی کا طوفان برپا ہے اور غریب عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ، حکمران عوام کو لوٹنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے جبکہ بد امنی اپنے عروج پر ہے، لوگوں کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر حکمران چین کی۹ بانسری بجا رہے ہیں ، فاٹا کے ھوالے سے انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے معاملے پر حکومت کنفیوز ہے اور آئے روز قبائلی عوام کے مستقبل کا فیصلہ نت نئے قوانین کے ذریعے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، انہوں نے کہا کہ صوبے میں انضمام کے بعد تمام اختیارات صوبائی حکومت کے پاس ہونے چاہئیں لیکن بدقسمتی سے گورنر کو خوش رکھنے کیلئے قبائلی امور پر تجربات کءئے جا رہے ہیں، سردار بابک نے کہا کہ اے این پی حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے اور عوام کے حقوق کی جنگ پارلیمنٹ سمیت تمام فورمز پر لڑی جا ئے گی۔