پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے قبائلی علاقوں میں ایف سی آر کے خاتمے کے بعد نیا کالا قانون نافذ کرنے کے ممکنہ فیصلے پر تشویش کا ظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قبائلی عوام کی امنگوں کے برعکس انہیں ایک نئے ایف سی آر میں جکڑنے کا نقصان وفاق کو ہو گا، گورنر کی تجویز پر لیویز ایکٹ کے نفاذ پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ فاٹا سے متعلق اے این پی کا موقف روز اول سے ہی واضح رہا اور انضمام کیلئے پارٹی نے طویل جدوجہد کی ہے جس کے نتیجے میں قبائلی عوام پر مسلط انگریز کے70سالہ کالے قانون کے خاتمے کی راہ ہموار ہوئی ، انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبائی حکومت شروع دن سے قبائلی علاقوں کے مستقبل بارے کنفیوژن کا شکار رہے اور آخر کار قبائلیوں پر وہی ایف سی آر مختلف نام سے مسلط کر دیا گیا، انہوں نے کہا کہ وارنٹ کے بغیر قبائلیوں کی گرفتاری اور تھانوں کی بجائے پبلک سروس سنٹر کا قیام کس زمرے اور قانون کے تحت کیا جا رہا ہے ،؟ ایمل ولی خان نے کہا کہ پولیس کا متوازی نظام رائج کرنا لیوی اہلکاروں کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے جو پہلے ہی اس نظام کا حصہ بننے کیلئے تیار نہیں ہیں، انہوں نے کہا کہ صوبے میں انضمام کے باوجود قبائلی شہریوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھنے کی سازش کی جا رہی ہے جو کسی طور قابل قبول نہیں ہو گی، انہوں نے کہا کہ حکومت سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مرضی کے فیصلے تھوپ کر قبائل کو یرغمال نہیں بنا سکتی ، سابق آئی جی خیبر پختونخوا اور چیف سیکرٹری لیویز ایکٹ کے مخالف تھے جس کی پاداش میں انہیں فارغ کر دیا گیا،ایمل خان نے کہا کہ محض ایک شخص کو خوش کرنے کیلئے لاکھوں قبائلی عوام کا مستقبل داؤ پر لگایا جا رہا ہے جبکہ نئے شامل ہونے والے اضلاع میں دہرے نظام کے نفاذ سے قانونی و عدالتی پیچیدگیاں بھی پیش آ سکتی ہیں،انہوں نے کہا کہ حکومت بالخصوص گورنر فاٹا اصلاحات کو اس کی اصل روح کے مطابق نافذ کریں اور اپنے اختیارات کی خاطر معاملات میں پیچیدگیاں پیدا کرنے سے گریز کریں بصورت دیگر اے این پی اپنا آئندہ کا لائحہ عمل جلد طے کرے گی۔