پشاور(پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ اس حکومت میں رول آف لاء نہیں،اتنے نااہل لوگوں کو لایا گیا ہے جو ایک سمری بھی صحیح طورجاری نہیں کرسکتی ‘باچاخان مرکز پشاور میں ملگری وکیلان کے صوبائی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ معلوم نہیں کہ سلیکٹڈ وزیراعظم نے گھر بیٹھے کونسے کاغذ پر لکھ دیا کہ میں نے آرمی چیف کوتوسیع دیدی’ پھر جب انہیں معلوم ہوا کہ یہ کام تو صدر کاہے تو وہی کاغذ کا ٹکڑا صدر کو بھیجا جنہوں نے اس پر دستخط کیا پھرکسی نے نکتہ اٹھایا ہے کہ اس کے لئے تو کابینہ کی منظوری ضروری ہے’ اس لئے نااہلی کے باعث ایک سیدھا سادہ معاملہ الجھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی یا مدت ملازمت میں توسیع کوئی اتنی بڑی بات نہیں تھی اگراقتدار کی مسند پر براجمان کوئی معقول آدمی ہوتا تو اس کے لئے صحیح طریقہ کارکے تحت ایک سمری ہی کافی تھی ‘ ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ پچھلے تین دن میں پاک فوج اور اس کے سربراہ کی جتنی تذلیل ہوئی اس کی مثال نہیں ملتی’اے این پی کے صوبائی صدر نے کہا کہ اب آرمی چیف کی توسیع کے معاملے پر 6 مہینے ٹاک شوزہونگے اور تجزیے و کالم لکھے جائیں گے۔ جج کے فیصلے سے ایک بات واضح ہوگئی کہ اختیار پارلیمان کے پاس چلا گیا اب وہ فیصلہ کریگی لیکن اتنے سنجیدہ فیصلے سیلکٹڈ نہیں منتخب لوگوں سے کروانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں سے یہ ملک چلایا نہیں جاسکتا یہ عوام اور اس کو لانے والے ادارے نے بھی دیکھا’ جن باتوں کی چی میگوئیاں ہورہی تھیں ان کی وضاحتیں آرہی ہیں۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست رہبر کمیٹی کے مطالبوں کو تسلیم کرے’ چھ ماہ آرمی چیف کی توسیع پرضائع کرنے سے بہتر ہے کہ اس مدت میں الیکٹورل ریفارمز کی جائیں تاکہ ملک میں صحیح معنوں میں عوامی طاقت بحال ہو۔ مزید براں ہر ادارہ چاہے عدلیہ ہوفوج ہو’ احتسابی ادارے ہوں،الیکشن کمیشن یا میڈیا اپنے دائرہ اختیارکے اندر رہتے ہوئے آزاد حیثیت میں کا م کرے تو ہی یہ ملک آگے بڑھ سکتا ہے۔