پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ مقتدر قوتیں پی ٹی آئی کو اقتدار میں لاکر سنگین غلطی کرچکی ہے جس کا خمیازہ پورے ملک کو بھگتنا پڑرہا ہے،2018 میں اگر مقتدر قوتیں پی ٹی آئی کیلئے پولیٹیکل انجینئرنگ اور دھاندلی نہ کرتی تو آج صوبے میں اے این پی کی حکومت ہوتی۔ مردان بخشالی میں ڈاکٹر شوکت جمال امیرزادہ کی شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ آج کی تقریب اس بات کا ثبوت ہے کہ اے این پی ہی پشتونوں اور محکوم قومیتوں کے حقوق کی واحد ترجمان جماعت ہے جو اپنی تاریخی حیثیت کے ساتھ 100سال بعد بھی اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹی۔ اے این پی کے صوبائی صدر نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے صوبے اور پشتونوں کا بیڑا غرق کردیا ہے، پشاور جیسے تاریخی شہر کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنیوالا نوشہرہ کا پشتون اب کہیں نظر نہیں آرہا۔ بی آر ٹی منصوبے کی وجہ سے ایک جانب شہر کا نقشہ کھنڈر میں تبدیل ہوچکا ہے تو دوسری جانب حکومتی کرپشن کا سب سے بڑا ثبوت نیب اور دیگر احتسابی اداروں کی آنکھوں سے اوجھل ہے۔ اس منصوبے کی لاگت میں بے تحاشا اضافہ ہوچکا ہے لیکن کسی کو حکومتی کرپشن نظر ہی نہیں آرہی۔اپوزیشن میں رہتے ہوئے اس منصوبے کو جنگلہ بس کہنے والوں نے اس منصوبے کے ایک کلومیٹر دو ارب 2 کروڑ 8 لاکھ روپے عوامی ٹیکس کے پیسوں سے لگادیے ہیں، چھ مہینوں کے دعویدار دو سال گزرنے کے باوجود بھی تکمیل کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دے سکتی۔ایمل ولی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کا کام صرف لوگوں پر الزام تراشی کرنا ہے، ثبوتوں کا حال یہ ہے سپریم کورٹ نے جب ثبوت مانگے تو انکے لیڈران نے کہا کہ ہمارا کام صرف الزام لگانا ہے۔ دوسری جانب ادارے بھی پی ٹی آئی کے مکمل حامی نظر آرہے ہیں،شہباز شریف پر کل نام نہاد احتساب بیورو نے الزامات لگائے ہیں لیکن یہ نہیں بتایا کہ کس منصوبے میں ان پر یہ الزامات لگائے جارہے ہیں۔ الزامات لگانے والوں نے پتہ نہیں کس کے کہنے پر آشیانہ کیس سپریم کورٹ سے واپس لے لیا ہے۔افغان امن مذاکرات بارے اے این پی کے صوبائی صدر نے کہا کہ امن عمل کی بحالی خوش آئند ہے لیکن ہم ایک بار پھر دہرانا چاہتے ہیں کہ حکومت افغانستان کو شامل کیے بغیر اس جنگ کا خاتمہ ممکن ہی نہیں، پرامن افغانستان پرامن پاکستان کی ضمانت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ طالبان کو امریکا کے ساتھ مذاکرات کی میز پر لانے والوں کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ دونوں فریق کو ساتھ بٹھانے سے ہی مسئلے کا حل نکلے گا۔ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ چالیس سالہ خونریزی کا واحد حل مذاکرات ہیں جو افغانستان حکومت کی سربراہی اور انکی قیادت میں ہو،انہیں نظرانداز کرنا ایک دوسری خونریز جنگ کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اے این پی کے صوبائی صدر نے سٹوڈنٹس یونین کی بحالی پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ جمہوری ملک میں طلباء یونین کی بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایک آمر کی جانب سے لگائی گئی پابندی کو ختم کرنا جمہوریت کی جیت ہوگی۔ انہوں نے لاہور میں اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھانے والے طلباء پر ایف آئی آر درج کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ طلباء اس ملک کا مستقبل ہے لیکن بدقسمتی سے ان پر مقدمے درج کرنا حکومت اور مقتدر قوتوں کے ڈر کی نشاندہی کررہا ہے