پشاور( پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے کہا ہے رہنما ن لیگ احسن اقبال کی گرفتاری سے احتساب کا ڈرامہ ایکسپوز ہوچکا ہے اور آج بلا امتیاز احتساب کا نعرہ دفن ہوگیا ہے۔ احسن اقبال کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف اپوزیشن کو نشانہ بنانے سے سلیکٹڈ وزیراعظم کی نااہلی نہیں چھپائی جاسکتی۔ احسن اقبال رہبرکمیٹی کے متحرک رکن تھے اور متحدہ اپوزیشن کو کمزور کرنے کی سازش کے طور پر انہیں نیب کے ذریعے گرفتار کیا گیا،سابق ڈی جی ایف آئی اے کے انکار کے بعد نیب کو اپوزیشن کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری کو ایسے موقع پر نیب نے طلب کیا جب انکی شہید والدہ اور سابق وزیراعظم بینظیربھٹو کی برسی منائی جارہی ہے۔ ایسے ہتھکنڈوں سے حکومتی نااہلی پر اٹھنے والی آوازوں کو دبایا نہیں جاسکتا۔راناثناء اللہ کو بغیر کسی ثبوت کے چھ ماہ جیل میں رکھا گیا، اس کا حساب کون دے گا؟ اپنی کرپشن کو چھپانے کیلئے عدالتوں کا سہارا لیا جارہا ہے۔ بی آر ٹی تحقیقات سے بھاگنے والوں نے سپریم کورٹ میں پناہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ مالم جبہ سکینڈل اور بلین ٹری سونامی میں کرپشن کی داستانیں رقم ہوچکی ہیں لیکن احتساب کا نعرہ لگانے والوں کو حکومتی کرپشن نظر نہیں آرہی۔سب سے بڑا کرپٹ خود عمران خان اور اسکی ٹیم ہے، بلا امتیاز احتساب ہوگا تو سلیکٹڈ کی پوری ٹیم جیلوں میں ہوگی۔ میاں افتخارحسین نے کہا کہ خیبرپختونخوا کوتباہ کرنیوالا پرویز خٹک وفاق میں وزارت کے مزے لے رہا ہے، ان کا احتساب کب ہوگا؟ موجودہ وزیراعلیٰ پر بھی کرپشن کے الزامات ہیں، اگر صرف الزامات پر اپوزیشن کو ہراساں کیا جارہا ہے تو حکومتی اراکین کے خلاف کئی ریفرنسز بھی فائل کی گئیں لیکن نیب کی خاموشی ثابت کرتی ہے کہ احتساب کے نام پر حکومتی مخالف آوازوں کو دبایا جارہا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر اعادہ کیا کہ رہبر کمیٹی اور متحدہ اپوزیشن سلیکٹڈ حکمرانوں کے خلاف کھڑی رہے گی اور اس وقت تک جدوجہد جاری رکھے گی جب تک ان حکمرانوں سے عوام کو چھٹکارا نہ دلایا جائے۔