پشاور ( پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ تمام ادارے اور افراد آئین پر عملدرآمد کے پابند ہیں،آئین میں تمام اداروں اور محکموں کیلئے طریقہ کار وضع ہے۔اے این پی سمجھتی ہے کہ اگر تمام ادارے آئین اور قانون کے اندر رہ کر کام کریں تو ملک ترقی بھی کریگا اور جمہوریت بھی مضبوط ہوگی۔پارلیمنٹ سپریم ہے اور اُس کی سپرمیسی کو لازماً تمام ادارے تسلیم کریں گے ،اے این پی تمام اداروں کا احترام کرتی ہے اور باہمی احترام سے ہی یہ ملک مضبوط ہوگا۔نوشہرہ میں پارٹی کے تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ پرویز مشرف کے حوالے سے آنے والا فیصلہ حتمی فیصلہ نہیں ہے لیکن عدلیہ نے شواہد کو دیکھتے ہوئے چھ سال بعد ایک فیصلہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس کو بھی اس فیصلے پر اعتراض ہے وہ اپیل دائے کرسکتے ہیں اور اپیل کے بعد ہی اس کیس کا فیصلہ حتمی تصور ہوگا۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ جب تک حتمی فیصلہ نہیں آتا ہر کسی کی اپنی مرضی ہے کہ وہ اس فیصلے کو اچھا کہے یا برا لیکن اس فیصلے کو ملکی مفاد کے پیش نظر ہر صورت ماننا پڑیگا کیونکہ فیصلہ دینا عدالت کا کام ہے اور عدالت نے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کی ہے۔انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے دور میں آئین معطل ہوا تھا،یہ ایک حقیقت ہے اگر کسی فرد یا ادارے کو اس پر تحفظات ہیں تو وہ بھی اپیل کا حق رکھتے ہیں اور اپیل کی یہ مدت اسی لیے مقرر ہے کہ اگر کسی کو اس فیصلے پر تحفظات ہو تو مقررہ وقت میں اس کے حوالے سے اپیل کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ اگر یہی عدالت وزیراعظم کو سزا سُنا سکتی ہے،اگر یہی عدالت وزیراعظم کو نااہل کرسکتی ہے تو اُس کو اس فیصلے کا بھی اختیار ہے،لہذا اس فیصلے پر بے جا تنقید کی بجائے فیصلے پر اعتراض کرنے والوں کو اپیل میں جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کے توسیع کے معاملے پر موجودہ حکومت نے فوج کو متنازع بنانے کی شعوری کوشش کی ہے،ایک ایسے نازک معاملے پر بھی کپتان اور اُس کی ٹیم فوج جیسے منظم ادارے کے ساتھ ڈبل گیم کھیل رہا تھا،ایکسٹینشن کے ایک سیدھے سادھے معاملے کو اتنا الجھایا گیا کہ آج بھی اُس کا ذکر اخبارات اور کالمز میں ہورہا ہے۔میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ عمران خان جس مہاتیر محمد کو اپنا ہیرو کہتا تھا ،آج سعودی عرب کے ڈر سے وہ ملائشیاء کا دورہ نہیں کررہا،سعودی عرب سے خیرات ملنے کی وجہ سے کپتان آج اپنی خارجہ پالیسی بھی خیرات ہی کے بل بوتے پر بنا رہا ہے۔