نوشہرہ میں باچاخان اور ولی خان کی برسی تقاریب کا پہلا جلسہ عام ہوگا، جلسہ عام سے مرکزی صدر اسفندیارولی خان خصوصی خطاب کریں گے، سانحہ اے پی ایس میں شہید بچوں کے والدین آج بھی مطمئن نہیں، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونے سے والدین میں بے چینی موجود ہے

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ اے پی ایس سانحہ میں شہید بچوں کے والدین آج بھی مطمئن نہیں اور آج بھی انصاف کے طلبگار ہیں۔ ان شہید بچوں کی ذمہ داری قبول کرنیوالا احسان اللہ احسان گرفتار کیا گیا لیکن آج ریاستی مہمان بیٹھا ہے۔ والدین کو کس طرح تسلی ملے گی کہ احسان اللہ احسان کو آزاد کرنے کی افواہیں بھی پھیلائی گئیں۔باچاخان اور ولی خان کی برسی تقریب کے حوالے سے پہلا بڑا ریجنل جلسہ عام نوشہرہ میں ہوگاجس سے مرکزی صدر اسفندیارولی خان سمیت مرکزی و صوبائی قائدین خطاب کریں گے۔ نوشہرہ میں برسی تقریب کی تیاریوں بارے ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اے پی ایس کے لواحقین کے غم میں شریک ہیں اور انصاف کی فراہمی کیلئے انکی کوششوں میں انکے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس سانحہ کے بعد 20نکاتی نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا لیکن جس طرح اس پلان پر عملدرآمد ہونا تھا اس طرح نہیں ہوا ہے۔ دہشت گردی آج بھی جاری ہے، سوات میں ن لیگ کے سرگرم رہنما فیروز شاہ کو اسلئے شہید کیا گیا کہ وہ امن کمیٹی کا ممبر تھا۔ ایسا لگ رہا ہے کہ موجودہ حکومت بھی دہشت گردی کی سرپرستی کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں سے بھتے وصول کیے جارہے ہیں،صوبائی دارالحکومت میں ہارون بلور کے فرزند دانیال بلور کو بھی دھمکی آمیز ٹیلیفون کالز اور بھتے کی پرچیاں دی جارہی ہیں۔ دہشت گردی کا مطلب صرف دھماکے نہیں ہیں بلکہ عوام کی جان و مال محفوظ نہ ہونا بھی دہشت گردی کی لہر ہے۔میاں افتخارحسین نے مطالبہ کیا کہ حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حالات کا ادراک کرے تاکہ لوگوں میں پھیلی ہوئی بے چینی کو دور کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ 70سال سے کشمیر کے نام پر ہندوستان کی دشمنی کا درس دینے والے کشمیر کا مقدمہ ہارنے کے بعد کرتارپور راہداری کھول دی گئی۔ ہم کرتار پور راہداری کو خوش آئند اقدام سمجھتے ہیں لیکن اگر دشمن کے ساتھ راستے کھولے جاسکتے ہیںتو افغانستان جو ایک اسلامی ملک ہے،انکے ساتھ کیوں تجارتی راستے بند کیے جارہے ہیں؟ کیونکہ یہاں فائدہ دونوں جانب پشتونوں کو ہورہا ہے۔حکومت کو داخلی وخارجی پالیسی پر نظرثانی کرنی ہوگی اور نیشنل ایکشن پلان پر صحیح معنوں میں عملدرآمد کرنا ہوگا۔میاں افتخارحسین کا کہنا تھا کہ فخرافغان باچاخان اور رہبرتحریک خان عبدالولی خان کی برسی تقریبات کا آغاز صبح باچاخان مرکز سے ہوگا اور 20جنوری کو نوشہرہ میں عظیم الشان جلسہ عام ہوگا جس میں وادی پشاور کے کارکنان کثیر تعداد میں شرکت کریں گے ۔ اس جلسہ عام سے پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان سمیت دیگر مرکزی و صوبائی قائدین خطاب کریں گے۔انہوں نے تمام کارکنان و ذمہ داران پر زور دیا کہ ابھی سے اس جلسہ عام کیلئے تیاریاں شروع کریں ۔اس موقع پر صوبائی نائب صدر خلیل عباس خٹک، ضلعی صدر جمال خٹک اور ضلعی جنرل سیکرٹری انجنیئر حامد سمیت نوشہرہ کے ذمہ داران نے بھی خطاب کیا۔