پشاور ( پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری اور پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سابق مرکزی صدر میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ طلبہ یونین کی بحالی سے تعلیمی اداروں میں موجود کمزوریاں،خرابیاں اور مسائل حل کیے جاسکتے ہیں۔ یونین سے تربیت یافتہ طلباء ہی عملی زندگی میں مدلل بات کرسکتے ہیں،پابندی سے پہلے تعلیمی اداروں میں تشدد کا عنصر موجود نہیں تھا لیکن اس کے بعد پورے ملک میں پھیل گیا۔موجودہ حکومت کی جانب سے طلباء یکجہتی مارچ کے منتظمین پر ایف آئی آر کا اندراج اور گرفتاری قابل مذمت ہے۔آمروں نے اپنی کامیابی اور خودساختہ تنظیموں کیلئے طلباء یونین پر پابندی لگائی جس سے مسائل میں مزید اضافہ ہوگا۔ باچاخان مرکز پشاور سے جاری کردہ بیان میں سابق سٹوڈنٹ رہنما اور اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری نے مطالبہ کیا کہ لاہور پولیس فوری طور پر مارچ کے منتظمین کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لے اور عالمگیر وزیر کو رہا کیا جائے کیونکہ وہ اپنے جمہوری و آئینی حق کیلئے آواز اٹھانے والے ہیں،پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن سمیت ہر جمہوری طلباء تنظیم اس مارچ اور طلباء یونین کی حمایت کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ایس ایف کے ورکر سے لے کر مرکزی صدر کے عہدے تک پہنچنے کیلئے جس تربیت سے وہ خود گزرے ہیں اسی وجہ سے آج ملکی سیاست میں اپنا کردار اور اپنے نظریے کا پرچار کررہے ہیں۔طلباء یونین کے دور میں طالبعلم باشعور تھا اور تعلیمی اداروں کے اندر انکے کردار ہی کی وجہ سے آج کے مسائل، کمزوریاں اور خرابیاں موجود نہیں تھیں کیونکہ طلباء رہنما جامعات و کالجز کے مسائل پر بات کرتے تھے اور اس کے حل کے راستے تلاش کرتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ خود گورنمنٹ کالج پشاور کے طلباء یونین کے انتخابات لڑچکے ہیں، جب یونین پر پابندی لگائی گئی تو وہ پی ایس ایف کے صوبائی صدر تھے اور یونین کی بحالی کیلئے بھرپور تحریک چلائی تھی۔ 1973ء سے 1986ء تک طلباء کی سیاست میں سرگرم رہنے والے میں افتخارحسین نے کہا کہ اس وقت پورے صوبے میں پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن پہلے،پیپلزسٹوڈنٹس فیڈریشن دوسرے اور جمعیت تیسرے نمبر پر تھی۔ آج بھی اگر دیکھا جائے تو طلباء تنظیموں سے نکلنے والے لوگ ہی زیادہ تر اپنے نظریے کی سیاست مخلصانہ طور پر کررہے ہیں جو ایک نیک شگون ہونے کے ساتھ ساتھ طلباء یونین کی بحالی کا تقاضا کرتی ہے۔ آج جامعات و کالجز میں فیسوں میں بے تحاشا اضافہ کردیا گیا ہے،تعلیمی اداروں میں نشے کا استعمال اور پرتشدد واقعات بڑھتے چلے جارہے ہیں، سرکاری اداروں کی نجکاری کی جارہی ہے لیکن اس کے خلاف منظم آواز اٹھانے والا کوئی موجود نہیں۔ پاکستان میں اب وقت آگیا ہے کہ طلباء یونین کی بحالی کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ طلباء میں سیاسی شعور کی پختگی اور اپنے حق کیلئے مدلل آواز اٹھانے کا حوصلہ پیدا ہو۔ انہوں نے کہا کہ آمر ضیاء الحق طلباء یونین پر پابندی لگا کر جمہوریت کو پنپنے سے روکا اور بدقسمتی سے وہ سفر آج بھی جاری ہے۔ لاہور میں طلباء یکجہتی مارچ کے منتظمین پر ایف آئی آر اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔اگر یونین سازی یا جامعات کے اندر اس سلسلے میں کوئی خامیاں یا خدشات موجود ہیں تو ان کا حل نکالا جاسکتا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایف آئی آر فوری طور پر واپس لی جائے اور حکومت پورے ملک میں طلباء یونین کیلئے ضابطہ اخلاق کے ساتھ ساتھ انتخابات کا اعلان کرے۔