پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے خطے میں اسلام اور کفر کا نہیں بلکہ وسائل کی جنگ جاری ہے۔ ہمارے صوبے اور ضم اضلاع میں تیل اور آئل فیلڈز کے بے تحاشا ذخائر موجود ہیں لیکن بدقسمتی سے ان کی ریفائنری کہیں اور بنائی گئی ہے۔ ضلع بنوں کے تنظیمی دورے کے تیسرے روز مختلف اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گیس ہمارے علاقوں میں پیدا ہوتی ہے لیکن صد افسوس کہ ہمارے لوگوں کے گھروں میں گیس نہیں ہے۔ جنوبی اضلاع تانبے سے بھرے پڑے ہیں وزیرستان سے باجوڑ تک ہمارے علاقے قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں۔ان علاقوں میں پیدا ہونے والا ماربل مکہ اور مدینہ میں استعمال ہو رہا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمارے وسائل پر غلام ابن غلام ابن غلام کا اختیار ہے۔ صوبوں کے حقوق کی ضامن اٹھارویں ترمیم بھی آج کچھ لوگوں سے ہضم نہیں ہو رہی ۔ بی آر ٹی میں کرپشن کے حوالے سے صوبائی صدر نے کہا اس پراجیکٹ میں جتنی کرپشن اور غلطیاں ہوئی ہیں ان کو چھپانے کے لئے حکومت ہائیکورٹ کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ جا رہی ہے۔اگر بی آر ٹی میں حکومت کے ہاتھ صاف ہیں تو پھر سپریم کورٹ جانے کی کیا ضرورت ہے۔اس اقدام کا واحد مقصد حکومت کا اپنی چوری کو چھپانا ہے۔ ایمل ولی خان نے سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ وہ بی آر ٹی کیس کا ازخود نوٹس لے اور انصاف کا بول بالا کرے۔پی ٹی ایم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ ان کے دو رہنماوں کو سیاسی جماعت بنانے کا حکم دیا گیا ہے اور ان کی مین سٹریمنگ کی جا رہی ہے۔