پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و ڈپٹی اپوزیشن لیڈر سردارحسین بابک نے قائمہ کمیٹی برائے ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیم انتہائی اہم اور ضروری شعبہ ہے لیکن بدقسمتی سے آئے روز نئے نئے تجربات نے تعلیمی ماحول و کارکردگی پر برے اثرات چھوڑے ہیں۔ صوبے میں تعلیم کے فروغ کو یقینی بنانے کیلئے بند کمروں میں فیصلوں کے خطرناک و برے اثرات ہوں گے۔ حکومت کو معیاری تعلیم یقینی بنانے کیلئے مشاورت اور متعلقہ فورمز بشمول صوبائی اسمبلی،قائمہ کمیٹی اور سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ تب ہی اس صوبے کے نظام تعلیم میں ترقی ممکن ہوسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیم کو اپنے ترجیحات میں شامل کرے۔ ہائی اور ہائرسیکنڈری سکولوں میں اب بھی ہزاروں کی تعداد میں آسامیاں خالی ہیں۔ حکومت نے نئے تعلیمی ادارے بنانے کیلئے کوئی بجٹ مختص نہیں کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آئوٹ آف سکولز بچوں میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔ حکومت کو نصاب تعلیم میں اصلاحات لانے چاہیے،یکساں نظام تعلیم و نصاب تعلیم کا نعرہ لگانے والوں نے ابھی تک اس طرف کوئی پیش قدمی نہیں کی ہے۔حکومت کو نصاب میں تبدیلی کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔حکومت کو ہم نصابی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے سکولز فنڈز میں اضافہ کرنا چاہیے اور سکولوں میں بنیادی سہولیات پہنچانے کیلئے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی بھرتی کیلئے جعلی ٹیسٹنگ سروسز کا خاتمہ ہونا چاہیے اور خالص اعلیٰ تعلیم کی بنیاد پر اساتذہ کی بھرتی کو یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ رشوت اور سفارش کا کلچر ختم ہوجائے۔ حکومت کو اساتذہ کے سروس سٹرکچرز پر بروقت عمل کرنا ہوگا تاکہ اساتذہ کی تعلیمی قابلیت اور تجربے کی بنیاد پر پروموشن ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی تربیت کو ترجیحی بنیادوں پر جاری رکھنا چاہیے، بند مکتب سکولوں کو فوری طور پر کھولنا چاہیے،1500سے زائد مکتب سکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ پی ٹی آئی کی گذشتہ حکومت کا تھا جس کو فوری طور پر واپس لینا چاہیے۔