پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ حکومت تمباکو کے پیداواری علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ہمارے صوبے میں دنیا کا بہترین ورجینیا تمباکو پیدا ہوتا ہے جو کہ سالانہ اربوں روپے آمدن کا سبب بنتی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک عرصے سے مخصوص کمپنیوں کی اجارہ داری کی وجہ سے تمباکو کے کاشتکاروں کا استحصال ہورہا ہے اور مخصوص کمپنیاں اونے پونے داموں کسانوں سے تمباکو کی خریداری کر رہی ہیں۔ اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری کا مزید کہنا تھا کہ اس اجارہ داری کی وجہ سے کسانوں اور زمینداروں کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت تمام کمپنیوں کو خریداری کی اجازت دے کر دو بڑے کمپنیوں کی اجارہ داری ختم کر سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمباکو پیداوار ہمارے صوبے کا سب سے بڑا قدرتی ذریعہ آمدن ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمباکو کے پیداواری علاقوں کی ترقی کے لئے خصوصی اقدامات اٹھائے۔ سردار حسین بابک نے یہ بھی کہا کہ تمباکو کی پیداوار سے کمپنیاں سالانہ اربوں روپے کما رہی ہیں لیکن بدقسمتی سے غریب کسان اور زمیندار پیداواری اگت بھی پورا نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا صوبہ قدرتی ذرائع آمدن کے حوالے سے ملک میں سب سے پہلے ہے لیکن آئے روز کے مسائل اور حکومت کی جانب سے نظر اندازی کی وجہ پسماندگی سے دوچار ہے۔ سردار بابک نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ حکومت نہ صرف کاشتکاروں اور زمینداروں کی تحفظ یقنی بنائے بلکہ تمباکو کی بین الاقوامی مارکیٹ کے مطابق قیمت بھی مقرر کرے۔ انہوں نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ تمباکو کے پیداواری علاقوں کی ٹوبیکو سیس میں اضافہ اور بروقت ادائیگی کو بھی یقینی بنائے۔