پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ پانچ برس بیت جانے کے باوجود بھی سانحہ اے پی ایس کے زخم مندمل نہیں ہوئے اور سانحہ پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے، اے پی ایس شہداء کے لواحقین آج تک انصاف کے منتظر ہیں، پانچ سال تک سانحہ کے اصل محرکات قوم کے سامنے نہ لائے جا سکے،شہداء کے خون کا حق ادا کرنے کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عملدرآمد ضروری ہے، سانحہ اے پی ایس کے بعد بنایا گیا نیشنل ایکشن پلان آج بھی اس بات کا متقاضی ہے، کیونکہ بیشتر نکات پر اب تک عمل درآمد نہ ہوسکا، یہی حکومتوں کی نااہلی ہے۔آرمی پبلک سکول سانحہ کی پانچویں برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ حملہ آور انسان کہلانے کے بھی مستحق نہیں تھے،جب تک دہشت گردانہ ذہنیت کی پیداوار،آماجگاہوں اور پنا ہ گاہوں کو ختم نہیں کیا جاتا اس وقت تک امن اور ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔اسفندیار ولی خان نے کہا کہ درسگاہوں پر حملہ کرنیو الے بیمار ذہنیت اور جاہلیت کے پیروکار ہیں شدت پسندانہ نظریات اور سوچ کو زبردستی مسلط کرنے والوں کے ہاتھ نہ روکے گئے تو مستقبل یونہی خطرے میں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ مجرموں کا بروقت سراغ لگا کر کیفرکردار تک پہنچا دیا جاتا تو مردان،چارسدہ،کوئٹہ اور زرعی یونیورسٹی پشاور جیسے واقعات رونما نہ ہوتے لیکن ریاست اور حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔شہدائے اے پی ایس کے لواحقین مجرموں کو کیفر کردارتک پہنچانے کیلئے چوکوں چوراہوں میں دھرنے دیتے رہے ہیں لیکن نیشنل ایکشن پلان بنانے والوں کے دل و دماغ پر لواحقین کی چیخوں کا کوئی اثر نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن بنے ایک سال سے زائد ہوچکا ہے لیکن اُس کا تحقیقات مکمل نہ کرنا والدین کے زخموں پر نمک پاشی ہے۔ اسفندیارولی خان نے کہا کہ اے این پی کی رائے ہے کہ اچھے اور برے کی تمیز سے نکل کر جب تک امن کو پہلی ترجیح نہیں بنائی جائے گی اس وقت تک سانحہ اے پی ایس جیسے حملے اور واقعات کو نہیں روکا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ امن کے قیام کیلئے باچا خان بابا کی سوچ و فکر کی ضرورت ساری دنیا کو ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں بڑے دہشت گرد موجود ہیں اور کالعدم تنظیموں کی صورت میں چندہ اکٹھا کر کے دہشت گردی کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے چند نکات پر عمل درآمد ہوا تاہم اب بھی بیشتر نکات پر عمل ہونا باقی ہے اور یہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی نا اہلی ہے، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات کی ذمہ داری ہماری صوبائی حکومت اور مرکزی حکومت دونوں پر عائد ہوتی ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ مستقبل میں بڑی تباہی سے بچنے کیلئے سانحہ اے پی ایس کے اصل محرکات قوم کے سامنے لائے جائیں اور گڈ و بیڈ کی تمیز ختم کر کے تمام دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے جس کیلئے بہترین آپشن ”نیشنل ایکشن پلان“ پر من و عن عمل درآمد کے سوا کچھ نہیں۔