پشاور ( پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے غیرجانبدارانہ کردار ہی سے عوامی نمائندگان پر مشتمل پارلیمنٹ تشکیل دے سکتی ہے،رہبرکمیٹی کے چار بڑے مطالبات میں بھی یہی مطالبہ تھا اور ہے کہ الیکشن کمیشن غیرجانبدار ہو،کسی کی مداخلت کے بغیر انتخابات کا انعقاد ہی جمہوریت کو مضبوط کرے گی۔ اسلام آباد میں رہبرکمیٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں افتخارحسین نے کہا کہ اجلاس کے دوران اپوزیشن کے دونوں کمیٹیوں (پارلیمانی و الیکشن کمیشن بارے بنائی گئی کمیٹی) نے رہبر کمیٹی کو بریفنگ دی اور ہر سیاسی جماعت کے نمائندے نے اپنا مئوقف پیش کیا۔ متحدہ اپوزیشن پارلیمنٹ کی بالادستی کی جنگ لڑتی رہے گی اور ایسے الیکشن کمیشن کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی جو ہر دبائو،مداخلت سے پاک اور غیرجانبدار ہو۔ ایسا نہ ہو کہ 2018ء کے جعلی انتخابات کی طرح اگلی دفعہ بھی وہی اعتراضات اٹھائے جائے، ہمیں مل کر ایسے اقدامات اٹھانے ہوں گے کہ جس سے یہ تاثر جائے کہ ملک میں شفاف انتخابات کیلئے تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں۔ الیکشن کمیشن کا کام صرف انتخابات کا انعقاد نہیں بلکہ دوسرے بھی کئی معاملات کا تعلق براہ راست ان کے ساتھ ہیں اسلئے ہم چاہتے ہیں کہ الیکشن سے پہلے بھی جتنے معاملات ہو ان کو خوش اسلوبی سے انجام دیا جائے۔ میاں افتخارحسین کا کہنا تھا کہ یہ صرف اپوزیشن نہیں بلکہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے اراکین کیلئے بھی ایک امتحان ہے کہ وہ عملاً ثابت کریں کہ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ وہ بھی ملک میں کسی مداخلت کے بغیر الیکشن کے حق میں ہیں، کیونکہ جب تک الیکشن کمیشن غیرجانبدار اور کسی کی مداخلت کے بغیر اپنی ذمہ داریاں انجام نہیں دے گی تب تک ملک میں حقیقی جمہوریت نہیں آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ رہبر کمیٹی میں موجود پیپلزپارٹی اراکین کو مرکزی صدر اسفندیارولی خان کی جانب سے سابق صدر آصف علی زرداری کی صحت بارے نیک خواہشات پہنچائے جس پر انہوں نے اے این پی کی پوری جماعت کا شکریہ ادا کیا۔ اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری کا کہنا تھا کہ میاں نوازشریف کے صحت بارے بھی ن لیگ اراکین سے دریافت کیا اور انکا کہنا تھا کہ صحت کی صورتحال اب بھی تشویشناک ہے،ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ دونوں سیاسی رہنمائوں کو صحت کاملہ عطا کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم میاں نوازشریف سے متعلق عدالتی فیصلے انسانی بنیادوں پر کئے گئے بہترین فیصلے ہیں لیکن افسوس کہ پارلیمنٹ کے ہوتے ہوئے یہ معاملات عدالت لے جائے گئے، اگر یہ فیصلے پارلیمان میں بیٹھے لوگ کرتے تو حقیقی معنوں میں پارلیمنٹ کی بالادستی قائم رہتی۔