مردان(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی ضلع مردان کے صدر حاجی لطیف الرحمان نے کہا ہے کہ باچاخان میڈیکل کالج کے مختلف سیکشنز کے ناموں کی تبدیلی کو مضحکہ خیز اور غیرضروری قراردیتے ہوئے مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کالج کے ڈینٹل سیکشن، نرسنگ کالج اور پیرامیڈیکل کالج کا نام “مردان ڈینٹل کالج” اور “مردان پیرامیڈکس کالج” رکھ دیا گیاہے جو پہلے فخر افغان باچاخان کے نام سے منسوب تھے۔نام کی تبدیلی حکومتی و بورڈ آف گورنرزکے تعصب پسندانہ و جانبدارانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے جس کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ نیا نام مردان کالج آف ڈینٹسٹری رکھنے کے خلاف بدھ کے روز پریس کانفرنس بھی ہوگی جس میں آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل کالج باچاخان کے نام سے منسوب ہے تو اس کے ڈینٹل سیکشن کو کس قانون کے تحت دوسرے نام سے لکھا و پکارا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بورڈ آف گورنرز کے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس جانبدارانہ و تعصبانہ فیصلے کے خلاف قانونی ماہرین کی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے اور جلد ہی عدالت جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ فیصلے کے خلاف مردان میں بھرپور احتجاج کا بھی اعلان کیا جائیگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تعصب کی عینک اتار کر فخر افغان باچاخان کے نام سے منسوب کالج کے ڈینٹل سیکشن کے نام کی تبدیلی کا فیصلہ واپس لیا جائے۔ اے این پی مردان کے صدر کا کہنا تھا کہ ہم تعصب سے بالاتر سیاست کے قائل ہیں ،یہی وجہ تھی کہ اے این پی دور حکومت میں اس وقت کے وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی نے پشاور میں درانی میڈیا کالونی،فضل حق کالج سمیت دیگر اداروں کے ناموں کی تبدیلی کو یکسر رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ جن لوگوں نے اس ملک و قوم کی خدمت کی ہے ان کے نام کسی بھی ادارے،چوک یا کالونیز سے نہیں ہٹائے جائیں گے۔ پی ٹی آئی ہوش کے ناخن لیں اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کی ذمہ داری بورڈ آف گورنرز اور مسند اقتدار پر بیٹھے لوگوں پر عائد ہوگی