پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ سی پیک کا مغربی روٹ پسماندہ اور دہشت گردی سے متاثرہ خطے کی ترقی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، چینی سفیر نے اسفندیار ولی خان کی قیادت میں اے این پی کے وفد کو بارہا یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ مغربی روٹ پر من وعن عملدرآمد کیا جائے گا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں ثقافتی گیلری چائنہ ونڈو کے دورے کے موقع پر خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا، انہوں نے گیلری کے مختلف حصوں کا دورہ کیا اور پاک چائنہ ثقافت کے حوالے سے پینٹنگز میں خصوصی دلچسپی ظاہر کی، میاں افتخار حسین نے کہا کہ چین اور اے این پی میں ایک قدر مشترک ہے کہ دونوں کا نشان سرخ ہے جو مسلسل جدوجہد کا نشان ہے،انہوں نے کہا کہ ترقی اور انقلاب کیلئے جدوجہد کرنا زندہ قوموں کا بنیادی مقصد ہو تا ہے اور چین اس حوالے سے ہم سے بہت آگے ہے جس نے پاکستان کے بعد آزادی حاصل کرنے کے باوجود دنیا پر اپنی دھاک بٹھائی اور آج وہ سپر پاورکی صف میں کھڑا ہے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ باچا خان کی سوچ و فکر ،ولی خان کی ولولہ انگیز قیادت اور اسفندیار ولی خان کی قیادت میں اگر جہد مسلسل سے کام لیا جائے تو ترقی کی راہ میں کوئی رکاوت نہیں، انہوں نے کہا کہ سی پیک خطے کی ترقی کیلئے ضروری ہے اور مغربی روٹ پر اصل نقشہ کے مطابق کام کرنے سے دہشتگردی کا خاتمہ ممکن ہونے کے ساتھ ساتھ پائیدار امن کا قیام بھی ممکن ہو سکے گا، انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح سنکیانگ میں سی پیک سے دہشتگردی کے خاتمے میں مدد ملی ہے اسی طرح ہمارے صوبے میں بھی امن کا قیام ممکن ہے، نئے اضلاع کو ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کیلئے سی پیک کے ساتھ لنک ضروری ہے،انہوں نے کہا کہ چین ہمارا دیرینہ اور بہترین دوست ہے ہم چین کی سرمایہ کاری کے حق میں ہیں تاہم سی پیک کا مغربی روٹ ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنا چاہئے،ہمیں چاہئے کہ ہم بھی ٹیکنالوجی سے کام لیتے ہوئے اپنے ملک کو ترقی کے راستے پر گامزن کرنے کیلئے چین کی تقلید کریں۔