پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ ایک سازش کے تحت عوام کو سیاست اور جمہوریت سے متنفر کیا جارہا ہے،آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر سلیکٹڈ حکومت کی نااہلی سامنے آچکی ہے،موجودہ سلیکٹڈ حکومت کو معلوم ہی نہیں تھا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کس طرح کیجاتی ہے،اس نااہل حکومت سے ایک سمری ارسال نہیں ہوسکی،ملک کس طرح چلائیں گے۔ نوشہرہ میں سابق ضلعی صدر پیپلزپارٹی میاں یحیٰی شاہ کاکا خیل کی اے این پی میں شمولیت کے موقع پر عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ پارلیمنٹ کے تقدس کو ختم کرنے اور سیاستدانوں سے نفرت کیلئے سلیکٹڈ وزیراعظم کو چنا گیا۔ریاست اگر ملک کی ترقی چاہتا ہے تو رہبر کمیٹی کے چار مطالبات فوری مان لے،ہم ریاست پاکستان سے درخواست کریں گے کہ اگر اس ملک کی ترقی چاہتے ہیں تو رہبر کمیٹی کے چار نکات پر فوری عملدرآمدکرکے موجودہ حکومت سے چھٹکارا دلایا جائے،چھ مہینوں میں آرمی چیف کیلئے قانون سازی سے پہلے فوج کی نگرانی میں الیکشن کو ختم کرنے کیلئے قانون سازی ہونی چاہئیے۔ انہوں نے کہا کہ خدائی خدمتگار تحریک کا راستہ روکنے والے نیست و نابود ہوچکے ہیںاور ہم اب بھی کہہ رہے ہیں کہ گذشتہ انتخابات میں ہمارا راستہ روکا گیالیکن ہمیں عوام سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ ہم عوامی حلقوں میں اس سے بھی زیادہ جائیں گے اور جارہے ہیں۔جمہوریت میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہے اور انہیں یہ حق ہمارے ابائواجداد نے دلوایاتھا۔انہوں نے کہا کہ ہم جمہوری پاکستان کو مانتے ہیں جہاں عوامی مینڈیٹ کا احترام ہو، نمائندے منتخب کرنے کا اختیار صرف اور صرف عوام کو حاصل ہوگا۔ موجودہ طرزحکومت سے پاکستان کو نقصان ہی نقصان ہوگا ۔آج ہر طبقہ کے لوگ احتجاج پر ہیں،اساتذہ،تاجر،وکلاء حتیٰ کہ طالبعلم بھی اپنے حق کیلئے نکل چکے ہیں۔طلبہ مارچ بارے اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ ہم طلبہ مارچ کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور پی ایس ایف اس کا حصہ ہے۔طلبہ یونین کی بحالی وقت کی ضرورت ہے ،پاکستان میں تعلیمی اداروں کے اندر طلبہ یونین کو جلد از جلد بحال کی جائے۔ تعلیمی اداروں میں فیسوں کے اضافہ کو مسترد کرتے ہیں، حکومت کو اس میں ریلیف دینا ہوگا۔ اسکے ساتھ ساتھ جامعات کو سیکیورٹی زونز بنانے کی بجائے ان کو جامعات ہی رہنے دیں۔ایمل ولی خان نے کہا کہ پشتونوں کو اپنی بقا اور ترقی کی خاطر ایک ہونا ہوگابصورت دیگر ہماری قومی تشخص برقرار نہیں رہ سکتا اور انہیں ایک کرنے کیلئے ہم ہر فرد پر جرگہ کریں گے، گھر گھر جائیں گے اور انہیں اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کریں گے۔