پشاور(پ ر)خیبرپختونخوا میں کان کنی کی صنعت ،مزدوروں کو درپیش مسائل اور ان کیلئے عملی اقدامات کے حوالے سے عوامی نیشنل پارٹی نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں توجہ دلائو نوٹس جمع کرادی۔ شانگلہ سے رکن صوبائی اسمبلی فیصل زیب خان کی جانب سے جمع کرائی گئی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ 10نومبر2019ء کو ضلع شانگلہ کے غریب مزدور کان کن درہ آدم خیل کے ایک کان میں پھنس گئے تھے لیکن ابھی تک ان کیلئے حکومت کی طرف سے کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا ۔ مذکورہ ضلع کے بیشتر افراد تقریباً40فیصد کوئلہ کان کنی کے کام سے وابستہ ہے۔ چونکہ پاکستان میں اس کاروبار کیلئے باقاعدہ قانون سازی موجود ہے اور 1924یا1926 کے تحت باقاعدہ قانون بنایا گیا ہے لیکن بدقسمتی سے صرف کاغذات کی حد تک محدود ہے ، ابھی تک اس قانون پر کوئی عملدرآمد نہیں کی گئی ہے۔توجہ دلائو نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کوئلہ کان کنی کو ایک مستقل صنعت کا درجہ دیا جائے کیونکہ یہ خیبرپختونخوا کی سب سے بڑی صنعت ہے۔ اس صنعت سے وابستہ افراد کیلئے ایسے ترکان ،انجنیئرز وغیرہ فراہم کیے جائیںجو مذکورہ کام کے دوران روزانہ کی بنیاد پر چیک اینڈ بیلنس رکھے۔ نوٹس کے مطابق پنجاب میں کوئلے کان کیلئے موجود قانون کو خیبرپختونخوا میں بھی لاگو کیا جائے تاکہ آئے روز ایسے ناخوشگوار واقعات رونما نہ ہو اور غریب مزدوروں کی دادرسی بھی ہوجائے