پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہے کہ سینیٹ میں اپوزیشن ممبران کی تعداد پوری ہے اور اپوزیشن کے خوف سے حکمرانوں کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ تمام ممبران سے مسلسل رابطے میں ہوں اور رہبر کمیٹی کے آج ہونے والے اجلاس میں یوم سیاہ سمیت مختلف نکات پر غور کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ نے گیدر بھبکیوں کے بعد اجلاس طلب کر لیا ہے اور حکومت نے اپوزیشن کے خوف سے ڈپٹی چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی ہے تاکہ کاروائی کو آگے بڑھنے سے روکا جا سکے، انہوں نے کہا کہ ہمارا اگلا ٹارگٹ سلیکٹڈ وزیر اعظم ہے اور اسے ہٹانے کیلئے قومی اسمبلی کا رخ کیا جائے گا، میاں افتخار حسین نے کہا کہ سینیٹ میں اپوزیشن کو دو تہائی اکثریت حاصل ہے لیکن اگر حکومت نے ہارس ٹریڈنگ یا اسٹیبلشمنٹ کے بل بوتے پر ممبران کی منڈی لگائی تو یہ نا اہل و سلیکٹڈ حکومت کا ایک اور پارلیمانی فراڈ ہو گا، انہوں نے کہا کہ حکومت بیساکھیوں کے بل پر کھڑی ہے، سینیٹ میں اپوزیشن کی کامیابی کے بعد لاڈلے کے اتحادی اسے چھوڑ جائیں گے،انہوں نے کہا کہ رہبر کمیٹی کے اجلاس میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی غیر قانونی گرفتاری کے حوالے سے غور کیا جائے گا، سلیکٹڈ حکمران مزید کمیٹی ممبران کو بھی گرفتار کر سکتے ہیں البتہ ہمارے پاس نعم البدل موجود ہیں، انہوں نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی کو بغیر الزام کے گرفتار کر نے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے گئے، ایل این جی کیس میں بغیر الزام کے گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ بیساکھیوں پر کھڑا سلیکٹڈ لاڈلا اپوزیشن کے دباؤ کی وجہ سے کانپ رہا ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ایل این جی میں خاقان عباسی پر منافع خوری اور کرپشن کا الزام لگا تو اس کے ساتھ قطری بھی متنازعہ ہو جائے گا، عمران خان نے خود قطری کے ساتھ خفیہ معاہدے کئے اور اس سے خیرات سمیٹی لیکن ملک کی خاطر گیس معاہدے پر سابق وزیر اعظم کو دھر لیا، انہوں نے کہا کہ 25جولائی کو پنجاب، بلوچستان اور سندھ میں یوم سیاہ کی تیاریوں کا حتمی جائزہ لیا جا رہا ہے، اے این پی پنجاب مظاہرے میں شرکت کا اعلان کر چکی ہے جبکہ دیگر صوبوں کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور صوبائی صدر ایمل ولی خان خود کراچی میں موجود ہیں، تاہم خیبر پختونخوا کی کوآر ڈینیشن کمیٹی کی جانب سے تیاریاں مکمل ہیں، بروز جمعرات دن گیارہ بجے پشاور میں انتخاب کردہ جگہ پر احتجاجی مظاہرہ ہو گا جس سے اسفندیار ولی خان، مولانا فضل ارحمان اور آفتاب شیرپاؤ سمیت دیگر جماعتوں کے مرکزی قائدین خطاب کریں گے۔