پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے ایڈیشنل سیکرٹری صوبائی اسمبلی کفایت اللہ خان کی بحالی اور صوبائی اسمبلی کے رکن جمشید خان مومند کے حق میں پشاور ہائیکورٹ کے فیصلوں پر مسرت و اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل میں بھی عدلیہ سے انصاف پر مبنی فیصلوں کی توقع ہے، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے سے تمام اپوزیشن ممبران کو وبے کے وسائل میں برابر کا حصہ ملنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے،عدالت سے توقع ہے کہ وہ اپنے فیصلوں کو من وعن تسلیم کرانے کو یقینی بنائے گی،انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے کی روشنی میں مسلط حکمرانوں کو اختیارات کے ناجائز استعمال اور نا انصافی کا موقع نہیں ملے گا،سردار حسین بابک نے کہا کہ صوبائی اسمبلی میں اقربا پروری کا بازار گرم ہے اپنے چہیتوں کو نوازنے ان کو پروموٹ کرنے،بھرتیاں کرنے اور مراعات کی بارش کی جا رہی ہے، حکمرانوں کے چہیتوں کی پانچویں انگلیاں گھری میں اور سر کڑاہی میں ہے،جبکہ اسمبلی کے سینئر ترین افسران کی پروموشن روکی گئی ہے،جو کہ انتہائی زیادتی ہے،انہوں نے کہا کہ سروس ٹریبونل اور عدالتی فیصلے آنے کے باوجود اسمبلی سیکرٹریٹ میں اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا،جو عدالت اور اداروں کی توہین ہے، سردار بابک نے کہا کہ مسلط حکومت صوبے کے وسائل کو ذاتی جاگیر سمجھتے ہیں تاہم ہائیکورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد نابلد حکومت کی آنکھیں کھل گئی ہونگی،عدالت کی موجودگی میں اپوزیشن کے حلقوں کے وسائل اور حصہ کسی کا باپ بھی نہیں کھا سکتا، عوام کے حقوق کی جنگ ہر فورم پر لڑیں گے، صوبے کو ملنے والے قرضے اور ان سے بننے والے منصوبے صرف حکومتی ارکان کے نہیں بلکہ پوری عوام کا ان پر حق ہے،، پشاور ہائیکورٹ کو ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں، جس نے اپنے عظیم فیصلے کی بدولت غریب اور ضرورت مند عوام کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔