پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ حکمران قبائلی عوام کو مسلسل دھوکہ دیتے آئے ہیں اور آج بھی جھوٹے وعدوں کے ذریعے غیور قبائلیوں کو ورغلانے کیلئے نام نہاد وزراءمیدان میں ہیں، جس اے این پی قبائلی اضلاع انتخابات کیلئے تیار ہے اور منظم و مؤثر انداز میں انتخابی مہم چلائے گی، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے قبائلی اضلاع کی ترقی کے حوالے سے جتنے بھی اعلانات کئے وہ زبانی خرچ سے زیادہ کچھ نہیں تھے، قبائلی عوام با شعور ہیں اور انہیںدلفریب و جھوٹے نعروں سے ورغلایا نہیں جا سکتا، سردار حسین بابک نے کہا کہ حکومت نے نویں این ایف سی ایوارڈ کے اجراءکے نام پر قبائلیوں کو دھوکہ دیا اور وعدوں کے باجود قبائلی انتخابات سے قبل این ایف سی ایوارڈ کا اجراءنہیں کیا گیا اور نہ ہی تین فیصد حصہ یقینی بنایا جا سکا، انہوں نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ وزیراعظم قبائلی عوام کے زخموں کی قیمت پر ملک بھر میں ہاؤسنگ سکیموں کے افتتاح کر رہے ہیں، قبائل میں تباہ حال انفراسٹرکچر بحالی کا منتظر ہے ، عوام کی تباہ شدہ املاک کی تعمیر کیلئے کوئی لائحہ عمل نہیں دیا جا رہا ، موبائل فون سروس سمیت انٹر نیٹ سروس کا اجرا جیسے بنیادی مسائل حکومت کی آنکھوں سے اوجھل ہیں ،انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ایک جانب سیکورٹی اہلکار قبایلﺅں کی ذاتی املاک میں مقیم ہیں اور انہیں خالی نہیں کر رہے دوسری طرف گڈ طالبان آج بھی قبائلی اضلاع میں دندناتے پھر رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ صورتحال مکمل طور پر کلیئر نہیں ہوئی تدارک نہ ہوا تو حالات بدامنی کی طرف بڑھتے جائیں گے، پاک افغان تجارتی راستوں کی بندش سے تاجروں کا ناقابل تلافی نقصان ہو چکا ہے ، صورتحال میں بہتری لانے کیلئے افغانستان کے ساتھ تمام تجارتی راستے کھولے جائیں،انہوں نے واضح کیا کہ حکومتی امور میں قبائلی عوام در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں لیکن کوئی ان کا پرسان حال نہیں،قبائلی اضلاع میں صحت کارڈ سرکاری دفاتر کی بجائے کارکنوں کے حجروں میں تقسیم کئے جا رہے ہیںاور اس پر پارٹی کا جھنڈا لوگو کے طور پر لگایا گیا ہے جو انتہائی نا مناسب ہے ، انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کی معدنیات پر منظم سازش کے تحت قبضہ کی کوششیں جاری ہیں، اور اربوں روپے کے قدرتی وسائل ہڑپ کرنے کیلئے نظریں مرکوز ہیں ، انہوں نے کہا کہ حکومت وضاحت کرے کہ100ارب سالانہ ترقیاتی فنڈز کہاں اور کس طرح خرچ کئے جائے گا،جبکہ قبائلی اضلاع کے نام پر ترقیاتی فنڈ دیگر اداروں کی بجائے ایف ڈبلیو او اور این ایل سی کے ذریعے کیونکر خرچ کرنے دیا جا رہا ہے ؟، انہوں نے کہا کہ حکمران یہ بھی واضح کر دیں کہ اس کے بدلے یہ ادارے اس کے بدلے حکومت کو انتخابات جتوانے کیلئے کونسی آسانیاں فراہم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ بلاک شناختی کارڈز کی بحالی کیلئے اے این پی طویل عرصہ سے آواز اٹھا رہی ہے ، لیکن بدقسمتی سے حکمران غافل ہیں ، مائنز کی صفائی کا کام نہیں کیا گیا ، حکومتی وزرا کے دورے صرف فوٹو سیشن سے زیادہ کچھ نہیں ، سردار حسین بابک نے کہا کہ انتخابی مہم زور و شور سے چلائی جائے گی اور جلد صوبائی سدر ایمل ولی خان ہر ضلع و حلقہ کیلئے مرکزی ،صوبائی و ضلعی عہدیداروں پر مشتمل کمیٹیاں بھی تشکیل دیں گے ، انہوں نے تمام ذیلی تنظیموں بالخصوص ملگری شاعران پر بھی زور دیا کہ قبائلی انتخابات کیلئے انتخابی مہم چلانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔