پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر خیبر پختونخوا اسمبلی سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ نیب کو ایلیمنٹری ایجوکیشن فاونڈیشن میں مالی بے ضابطگیوں کے خلاف انکوائری کرنی چاہیے،تبدیلی سرکار نے ای ای ایف میں پہلے اپنے من پسند شخص کو ایم ڈی تعینات کردیا تھا اور اب اُسی ایم ڈی پر الزامات عائد کیے جارہے ہیں،باچا خان مرکز پشاور سے جاری اپنے بیان میں سردار حسین بابک نے کہا کہ ای ای ایف میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے پہلے اہل اور زیادہ تعلیم یافتہ امیدواروں کو چھوڑ کر کم تعلیم یافتہ اور نا اہل شخص کو ایم ڈی تعینات کردیا تھا اور اب اُسی ایم ڈی پر پی ٹی آئی سرکار ہی کی جانب سے الزامات عائد کیے جارہے ہیں،انہوں نے کہا نیب ای ای ایف میں ہونے والے گھپلوں کی انکوائری کریں کیونکہ ایم ڈی کے پوسٹ کیلئے نیب کے پاس متاثرہ امیدواروں کے جانے کے بعد بھی نیب کی جانب سے سارے صورتحال پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو یہ وضاحت بھی دینی ہوگی کہ جس ایم ڈی پر اب حکومت کی جانب سے واؤچرز سکیم میں کروڑوں روپے کی کرپشن کے الزامات عائد کیے جارہے ہیں حکومت بتائے کہ نا اہل ایم ڈی کو کس کے کہنے پر تعینات کیا گیا تھا اور محکمے نے کس کے کہنے پر غیر قانونی کام کیے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی الزامات کے بعد بھی واؤچرز سکیم میں کروڑوں کی کرپشن اور بے ضابطگیوں پر نیب کی خاموشی بھی معنی خیز اور جانبداری ہے،نیب کو معاملے کی جلد از جلد تحقیقات کرکے قوم کا پیسہ محفوظ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو ان سوالات کے جوابات ضرور دینے ہونگے کہ اگر ایم ڈی ای ای ایف کرپٹ تھے تو حکومت اس سارے دورانیے میں کیوں خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی تھی،اسی طرح ای ای ایف کے بورڈ نے نا اہل ایم ڈی کی بھرتی پر کیوں اپنے تحفظات کا اظہار نہیں کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ نیب کو یہ وضاحت بھی دینی ہوگی کہ کیوں صوبائی حکومت کے کرپشن کیسسز پر نیب خامو ش رہتی ہے اگر نیب کا رویہ پی ٹی آئی سرکار کے حوالے سے یہی رہا تو دیگر سیاسی پارٹیاں نیب دفتر کے سامنے احتجاج پر مجبور ہونگے۔