پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ بلین سونامی ٹری در حقیقت کرپشن کا سیلاب ہے ،حکومت تحقیقات سے راہ فرار اختیار کرنے کیلئے حیلے بہانے تراش رہی ہے، باچا خان مرکز پشاور میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکمران حکومتی اختیار کے ذریعے بلین ٹری سونامی میں اربوں روپے کی کریشن چھپانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں، اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ ارب پودے جن اضلاع و علاقوں میں اگائے گئے ہیںان کی تعداد،سائٹس کی نشاندہی،پودوں کی اقسام،قیمتیں اور جن نرسریز سے پودے خریدے گئے ان کی تفصیلات سامنے لائی جائیں ، انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی نے جن علاقوں کا دورہ کیا وہاں پودوں کا نام و نشان تک نہیں جبکہ ان علاقوں میں پودوں کی تعداد لاکھوں میں درج کی گئی ہے،قومی خزانے کے بےدردی سے استعمال اور پائی پائی کا حساب دینا حکومت کی ذمہ داری ہے، سردار بابک نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کی طرف سے جگہ اور تاریخ کے تعین کے باوجود پارلیمانی کمیٹی کے حکومتی چیئرمین اور وزراءموقع پر نہیں جا رہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اب راہ فرار اختیار کرنے کیلئے کوششیں کی جا رہی ہیں،اس کے برعکس وضاحتین پیش کی جا رہی ہیں ، انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے قائمہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ و ممبر شپ سے استعفے دیئے لیکن ابھی تک سپیکر نے منظور نہیں کئے، سردار حسین بابک نے کہا کہ حکومت اربوں کی کرپشن چھپانے کیلئے کب تک بھاگتی رہے گی اس معاملے میں احتسابی اداروں کی جانبداری بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ بلین ٹری سونامی میں اربوں روپے کی کرپشن واضح ہے اور اس منصوبے کے نام پر چہیتوں کو نوازنے والوں کی جانب سے پریس کے ذریعے وضاحتیں دینے سے بات نہیں بنے گی،اپوزیشن اربوں روپیہ لوٹنے نہیں دے گی انہوں نے کہا کہ اسمبلی فلور پر حکومت کے اپنے وزیر نے حق گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پارلیمانی کمیٹی کے حکومتی چیئرمین کے سائٹ پر نا جانے پر اپوزیشن کا ساتھ دیا ہے،انہوں نے کہا کہ اپوزیشن تنقید برائے تنقید پر یقین نہیں رکھتی البتہ کسی کو قومی خزانہ لوٹنے کی اجازت نہیں دیں گے،انہوں نے کہا کہ عوام میڈیا کے ذریعے اپوزیشن کے سوالات پر حکومتی جوابات مانگ رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ حکمران واضح کر دیں کہ کس طرح اتنے قلیل عرصہ میں ایک ارب درخت لگائے جا سکتے ہیں اور اس کے ساتھ یہ طریقہ کار بھی واضح کر دے کہ جس کے تحت عوام اور پارلیمانی کمیٹی کے ممبران یہ درخت گن سکیں،انہوں نے مزید کہا کہ جن افسران کو معطل کیا گیا ان سے کتنی ریکوری کی گئی اور انہیں کس جرم پر معطل کیا گیا اس کی بھی وضاحت ہونی چاہئے، انہوں نے کہا کہ زبانی جمع خرچ و نامناسب وضاحتوں سے غریب صوبے کا اربوں روپیہ کسی کو کھانے نہیں دیں گے۔